03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی ملک وزٹ پر جا کر غیر قانونی قیام کرنے کا حکم
80751جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص سعودی عرب تین (3) مہینے کا وزٹ لے کر جاتا ہے، اس کی ایک نیت یہ ہوتی ہے کہ وہاں عمرہ کرے گا اور مکہ مدینہ کی زیارت کرے گا، دوسری نیت یہ ہوتی ہے کہ وہاں کام کرے گا اور پیسے کمائے گا، پھر تین مہینے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر رکا رہے گا اور محنت مزدوری کر کے پیسے کماتا رہے گا۔  

ایسا کرنا کیسا ہے؟ اور وہاں کام سے جو پیسے کمائے گا، ان کا کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسا کرنا جھوٹ، دھوکہ دہی، معاہدے کی خلاف ورزی اور حکومت کے جائز قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے جائز نہیں، سخت گناہ کی بات ہے جس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔ جہاں تک ایسے غیر قانونی قیام کے دوران کی گئی کمائی کا تعلق ہے تو اگر کسی جائز کام سے کمائی کی ہو تو وہ حرام نہیں ہوگی، اگرچہ مندرجہ بالا خلافِ شریعت امور کا گناہ اپنی جگہ ہوگا، اور اگر کمائی کسی ناجائز کام کی ہو تو پھر کمائی بھی حرام اور ناجائز ہوگی۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:                     

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ} [المائدة: 1].

أحكام القرآن للجصاص (3/ 284):

قال أبو عبيدة في قوله أوفوا بالعقود قال هي العهود والأيمان. وروي عن جابر في قوله أوفوا بالعقود قال هي عقدة النكاح والبيع والحلف والعهد. وزاد زيد بن أسلم من قبله وعقد الشركة وعقد اليمين. وروى وكيع عن موسى بن عبيدة عن أخيه عبدالله بن عبيدة قال: العقود ستة عقد الأيمان وعقد النكاح وعقدة العهد وعقدة الشرى والبيع وعقدة الحلف.قال أبو بكر: العقد ما يعقده العاقد على أمر يفعله هو أو يعقد على غيره فعله على وجه إلزامه إياه؛ لأن العقد إذا كان في أصل اللغة الشد، ثم نقل إلى الأيمان والعقود عقود المبايعات ونحوها، فإنما أريد به إلزام الوفاء بما ذكره وإيجابه عليه. وهذا إنما يتناول منه ما كان منتظرا مراعی في المستقبل من الأوقات، فيسمى البيع والنكاح والإجارة وسائر عقود المعاوضات عقودا؛ لأن كل واحد منهما قد ألزم نفسه التمام عليه والوفاء به، وسمي اليمين على المستقبل عقدا؛ لأن الحالف قد ألزم نفسه الوفاء بما حلف عليه من فعل أو ترك والشركة والمضاربة ونحوها تسمى أيضا عقودا لما وصفنا من اقتضائه الوفاء بما شرطه على كل واحد من الربح والعمل لصاحبه وألزمه نفسه، وكذلك العهد والأمان؛ لأن معطيها قد ألزم نفسه الوفاء بها، وكذلك كل شرط شرطه إنسان على نفسه في شيء يفعله في المستقبل فهو عقد، وكذلك النذور وإيجاب القرب وما جرى مجرى ذلك.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      1/ محرم الحرام /1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب