03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجنے کا حکم
80752خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ لوگ سعودی عرب اور دبئی سے ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہنڈی کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک رقم بھجوانا تین شرائط کے ساتھ جائز ہے:-

(1)۔۔۔ معاملہ ثمنِ مثل پر کیا جائے، یعنی باہر ملک میں موجود شخص جس وقت ہنڈی والے سے معاملہ کر رہا ہو اس وقت عام مارکیٹ میں باہر ملک کی کرنسی کی پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں جو قیمت بن رہی ہو اسی قیمت کے بدلے تبادلہ کیا جائے، قیمت اس سے کم یا زیادہ مقرر نہ کی جائے۔ البتہ مناسب اجرت کی الگ سے تعیین کی جائے۔

(2)۔۔۔ دونوں عوضوں میں سے کسی ایک پر مجلسِ عقد میں قبضہ کیا جائے، یعنی وہ شخص جو پاکستانی روپیہ ادا کرنے کی ذمہ داری لے رہا ہو وہ معاملہ کے وقت  ہی اس دوسری کرنسی (ریال، درہم  وغیرہ) پر قبضہ کرلے جس کا بدل وہ پاکستانی روپیہ میں ادا کرے گا۔

(3)۔۔۔ ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا قانوناً ممنوع نہ ہو۔

مذکورہ بالا شرائط میں سے اگر پہلی دو شرائط کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا تو معاملہ ناجائز ہوگا اور  کمائی حرام ہوجائے گی۔ اور اگر تیسری شرط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا، باقی معاملہ فی نفسہ درست رہے گا، یعنی کمائی حرام نہیں ہوگی۔ (مأخذہٗ: اسلام اور جدید معاشی مسائل، مجموعۂ رسائلِ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: 2/86۔87)

حوالہ جات

تکملة فتح الملھم (3/268):

المسلم یجب علیہ أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحة؛ فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابہ؛ لأن اللہ سبحانہ وتعالی قال: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]،  فلو کان المراد من إطاعة أولی الأمر إطاعتھم فی الواجبات الشرعیة فحسب، لما کان ھناك داعٍ لاستقلالھم بالذکر فی ھذہ الآیة؛ لأن طاعتھم فی الواجبات الشرعیة لیست إطاعة أولی الأمر، وإنما ھو إطاعة اللہ ورسولہ، فلما أفردھم اللہ سبحانہ بالذکر ظھر أن المراد إطاعتھم فی الأمور المباحة. ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة.

فقه البیوع (2/739):

أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربیة الباکستانیة بالریال السعودی، فقیاس قول الإمام محمد رحمہ اللہ تعالی أن تجوز فیہ النسیئة أیضاً؛ لأن الفلوس لو بیعت بخلاف جنسھا من الأثمان، مثل الدراھم، فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعاً بشرط أن یقبض أحد البدلین فی المجلس، لئلا یؤدی إلی الافتراق عن دین بدین….. فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی، وتجوز فی الموقف الثالث، وھذا الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی "أحکام الأوراق النقدیة".

بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة (1/175):

وقد یقع إشکال علی جواز النسیئة أنه لو أجیزت النسیئة فی مبادلة عملات مختلفة، یمکن أن تصبح النسیئة حیلة لأکل الربا…. وحل هذا الإشکال ماذکرنا من أن یشترط فی جواز النسیئة أن یکون بسعر المثل یوم العقد. فإن اشتراط ثمن المثل فی عقود النسیئة یقطع الاحتیال علی الربا. واشتراط سعر المثل فی المبادلات له نظائر کثیرة فی الفقه، مثل أجرة کتابة الفتوی، أجازها الفقهاء بشرط أن لایتجاوز فیه عن أجر المثل، وذلك لئلا یتخذ ذلك حیلة لتقاضی الأجرة علی الإفتاء نفسه.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      1/ محرم الحرام /1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب