03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ، دو بھائی اور دوبہنوں میں ترکہ کی تقسیم
80719میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحوم غلام رسول ولد عمر دین کا انتقال ہوا، اس نے ترکہ میں کچھ زرعی زمین ترکہ چھوڑی، اس کے ورثاء میں بیوہ، دو بھائی (محمد عالم اور محمد رفیق) اور دو بہنیں (حنیفہ بی بی اور ارشادبی بی) ہیں، لیکن دونوں ان کی وفات کے بعد وفات پا چکے ہیں، اب ان کی اولاد حیات ہے، البتہ دونوں بہنیں حیات ہیں، بیوہ بھی حیات ہے۔ گزارش یہ ہے کہ مرحوم کی وراثت تقسیم کیسے ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد، سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے، ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے، اس میں سے چوتھائی حصہ مرحوم کی بیوہ کو اور بقیہ حصہ بھائی اور بہنوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ بھائیوں کو بہنوں کی بنسبت دوگنا  حصہ دیا جائے گا، لہذا پیچھے ذکرکیے گئے میت کے تین تین حقوق ادا کرنے کے بعد بقیہ ترکہ کو آٹھ (8) حصوں میں برابر تقسيم كر كے   مرحوم کی بیوی کو دو (2) حصے، ہر بھائی کو دو (2) حصے اور ہر بہن کو ایک (1) حصہ دے دیا جائے، فیصدی اور عددی اعتبار سےتقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:واضح رہے کہ مرحوم کے دونوں بھائی چونکہ والدین کی وفات کے وقت حیات تھے، اس لیے ان کو بھی اپنے مرحوم بھائی کے ترکہ سے شریعت کے حکم کے مطابق حصہ ملے گا اور پھر ان کا حصہ ان کے شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم ہو گا۔

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوہ

2

25%

2

بھائی

2

25%

3

بھائی

2

25%

4

بہن

1

12.5%

5

بہن

1

12.5%

 

حوالہ جات

     القرآن الکریم: [النساء: 12]:

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}

السراجی فی المیراث:(ص:36) مكتبة البشرى:أما العصبة بنفسه: فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت وهم أربعة أصناف: جزء الميت، وأصله وجزء أبيه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

یکم محرم الحرام 1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب