03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیشل کرانے کاحکم
80739جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

پچھلے دنوں اسلام اخبار میں ایک مضمون چھپا تھا جس میں جامع الصغیر کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے فیشل کرنے اور کرانے والی عورتوں کو ملعون قرار دیا گیا تھا… تو کیا یہ روایت صحیح ہے؟ اور فیشل کرنا (چاہے گھر میں ہو) یا کرانا جائز نہیں ہے؟ اگر نہیں تو یہ حکم علماء نے کبھی صراحتا کیوں نہیں ذکر کیا اور یہ مسٸلہ معروف کیوں نہیں ہے جیسے بھنویں بنانے اور داغ لگوانے وغیرہ جیسے مسئلے معروف ہیں.. کیونکہ اب تک جتنے لوگوں سے اسکے بارے میں پوچھا سب نے حیرت ظاہر کی اور ہم نے خود بڑے بڑے دیندار گھرانے کی عورتوں کو فیشل کرتے اور کراتے دیکھا ہے… اور اگر جائز ہے تو اس روایت کا کیا جواب ہوگا؟ برائے مہربانی اسکی وضاحت فرما دیجئے… چہرہ کی مالش و بال کا صاف کرنا:- علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب احکام النساء میں یہ لکھا ہے کہ جو عورت کسی بھی دواء اور تیل وغیرہ سے اپنے چہرے کو اس لیے ملے تاکہ رنگ صاف ہو اس پر لعنت ہے۔ ایک حدیث میں حضور … نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو جلد کی مالش کرتی ہیں اور کراتی ہیں۔ (جامع صغیر، ج:۲، ص: ۳۲۹) اب غور کیجئے کہ بیوٹی پارلر میں گال، ناک، آنکھ، حلق، تھوڈی اور گردن کے اوپری حصہ پر تیل یاکریم لوشن سے مالش کی جاتی ہے اور رنگ کو نکھارنے اور جلد میں چمک پیدا کرنے کی جوکوشش کی جاتی ہے یہ عمل شرعاً درست نہیں ہے ناجائز و حرام ہے۔ البتہ اپنے ہاتھ سے کریم وغیرہ چہرہ پر لگاناجائز ہے لیکن مالش کراناجائز نہیں ہے۔ اس حدیث مبارکہ کی اسنادی حثیت کیا ہے؟ 2-نیز بعض حضرات فیشل وغیرہ کو دھوکہ بازی,فیشن,فضول خرچی اور فساق کے ساتھ مشابہت قرار دیتے ہیں. جبکہ اب تو دین دار لوگ بھی ان طریقوں سے جلد کی حفاظت کرتے ہیں. مفتی صاحب اگر کوئی عورت کریم وغیرہ کے ذریعے جلد کو صاف رکھتی ہے تو کیا واقعی یہ دھوکہ بازی کا گناہ ہو گا اور فساق کےساتھ مشابہت ہو گی. ؟اگر یہ گناہ ہے تو ان کے متبادل عورت کی زینت کےجائز ذرائع کیاہیں؟رہنمائی فرما دیں.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صاحب مضمون نے حدیث کے جس حصہ سے استدلال کیاہے یہ حصہ کسی صحیح حدیث میں موجود نہیں،محدثین نے اس کوضعیف کہاہے،ضعیف حدیث سے احکام کااستنباط درست نہیں ،فضائل میں چندشرطوں کے ساتھ  حدیث ضعیف قبول ہوتی ہے، اس لئے اس سے فیشل کے حرام ہونے پراستدلال کرنادرست نہیں،چہرہ کی ظاہری خوبصورتی کے لئے اگرکسی حلال پروڈکٹ کااستعمال کیاجائے اوراس سے زینت اختیارکی جائے تواس کی اجازت ہے۔

حوالہ جات

فی مسند الإمام أحمد بأحكام الأرناؤوط (ج 26 / ص 34):

حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا عبد الصمد قال حدثتني أم نهار بنت رفاع قالت حدثتني آمنة بنت عبد الله انها شهدت عائشة فقالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلعن القاشرة والمقشورة والواشمة والمتوشمة والواصلة والمتصلة۔

تعليق شعيب الأرنؤوط : صحيح دون قولها : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلعن القاشرة والمقشورة وهذا إسناد ضعيف۔

وفی مجمع الزوائد للهيثمي (ج 11 / ص 342):

 وعن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلعن القاشرة والمقشورة .

رواه أحمد وفيه من لم أعرفه من النساء .

وفی الموسوعة الفقھیة الکویتیة: (161/32، ط: دار السلاسل(:
قال العلماء: يجوز العمل بالحديث الضعيف بشروط، منها:
أ - أن لا يكون شديد الضعف، فإذا كان شديد الضعف ككون الراوي كذابا، أو فاحش الغلط، فلا يجوز العمل به.
ب - أن لا يتعلق بصفات الله تعالى ولا بأمر من أمور العقيدة، ولا بحكم من أحكام الشريعة من الحلال والحرام ونحوها.
ج - أن يندرج تحت أصل عام من أصول الشريعة.
د - أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته، بل يعتقد الاحتياط.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

      ۳/محرم الحرام۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب