| 80740 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
بعض حضرات فیشل وغیرہ کو دھوکہ بازی،فیشن،فضول خرچی اور فساق کے ساتھ مشابہت قرار دیتے ہیں. جبکہ اب تو دین دار لوگ بھی ان طریقوں سے جلد کی حفاظت کرتے ہیں. مفتی صاحب اگر کوئی عورت کریم وغیرہ کے ذریعے جلد کو صاف رکھتی ہے تو کیا واقعی یہ دھوکہ بازی کا گناہ ہو گا اور فساق کےساتھ مشابہت ہو گی. ؟اگر یہ گناہ ہے تو ان کے متبادل عورت کی زینت کےجائز ذرائع کیاہیں؟رہنمائی فرما دیں.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فساق وفجارخواتین بھی فیشل کرتی ہیں توکیا اس سےمشابہت ہوگی ؟مشابہت کے حوالہ سے تفصیل یہ ہے کہ مذہبی امور میں تو فساق وفجار کے ساتھ مشابہت مطلقامنع ہے،قصدہویانہ ہو،البتہ وضع قطع میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی صورت کفار کے ساتھ خاص ہو یافاسق لوگوں کے ساتھ خاص ہو،وہ صورت ان کی پہچان بن جائے ،مسلمانوں اوردیندار لوگوں میں عام نہ ہوتواس میں بھی مشابہت مطلقا منع ہے،اگرمسلمانوں میں بھی عام ہوجائے توپھرحکم یہ ہے کہ اگروہ خاص صورت مشابہت کے ارادہ سے اختیارکی جائے تومکروہ تحریمی ہے،اگرمشابہت کاارادہ نہ ہواوراس کامتبادل بھی ہوتواس سے بچنابہترہے۔
امدادالاحکام میں ہے:عادات میں مشابہت کاحکم یہ ہے کہ اگرہماری کوئی خاص وضع پہلے سے ہواورکفارنے بھی اس کواختیارکرلیاہے،خواہ اتباع کرکے یاویسے ہی،اس صورت میں مشابہت اتفاقیہ ہے،اوراگرہماری وضع پہلے سے جداہواوراس کوچھوڑکرہم کفارکی وضع اختیارکریں،یہ ناجائزہے،اگران کی مشابہت کابھی قصدہےتب توکراہت تحریمی ہے اوراگرمشابہت کاقصدنہیں ہے،بلکہ اس لباس اوروضع کوکسی اورمصلحت سے اختیارکیاگیاہے تواس صورت میں تشبہ کاگناہ نہ ہوگا،مگرچونکہ تشبہ کی صورت ہے،اس لئے کراہت تنزیہی سے خالی نہیں۔((286/1
صورت مسؤلہ میں فیشل اب یہ دیندارخواتین بھی عام ہے،اس کوفساق وفجارکی علامت نہیں سمجھاجاتا اس لئے فیشل کرانےمیں حرج نہیں،اگرکوئی خاتون کسی فاسق عورت کی مشابہت کی ارادے سے فیشل کرائے تویہ مکروہ ہوگا۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۳/محرم الحرام۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


