03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھائی کے انتقال کی صورت میں بھتیجوں کے استحقاق کا حکم
80417میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 سوال یہ ہے کہ  میرے تایا  کے انتقال کے بعد میرے والد صاحب کا بھی انتقال  ہو گیا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ میرے تایا مرحوم کے ترکے میں سے مجھے حصہ ملے گا کہ نہیں؟ کیوں کہ ان کی وفات کے بعد ہی میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا تھا ، جبکہ میرے والد صاحب نے اپنی حیات میں ہی وراثت سے متعلق دعویٰ دائر کر چکے تھے ، ابھی میرے تایا مرحوم کی دو بہنیں حیات ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں تایا کے انتقال کے بعد آپ کے والد( عصبہ ہونے کی وجہ سے )میراث میں  اپنےحصے کے مستحق تھے، آپ کے والد صاحب کے انتقال کے بعد تایا مرحوم کی میراث میں موجود آپ کے والد صاحب کا حصہ ان(والد صاحب) کے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

....

محمد جمال ناصر

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

04/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمال ناصر بن سید احمد خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب