| 80765 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب: آج کل get like نام کی app ہے جس میں مختلف لوگوں کے اکاؤنٹس کو فالو کیا جاتا ہے ایک اکاونٹ کے فالو کرنے پر تقریباً تین سے ساڑھے تین روپے ملتے ہیں ۔ اس میں میل اور فی میل مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے اکاؤنٹس ہوتے ہیں کیا اس طرح فالو کرکے ارننگ کرنا جائز ہے اور اگر صرف مردوں کے اکاؤنٹ فالو کۓ جائیں تو اسکا کیا حکم ہے ۔ جزاک اللہ خیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی طورپر اکاؤنٹ فالوکرنا کوئی ایسی مقصودی منفعت نہیں ہے کہ اس پراجرت لی جاسکے،اس لئے اکاؤنٹس فالو کرکے رقم کماناجائزنہیں۔
حوالہ جات
فی رد المحتار (ج 24 / ص 105):
لغة : اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به ، يقال أعظم الله أجرك .
وشرعا ( تمليك نفع ) مقصود من العين ( بعوض ) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل ، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۴/محرم الحرام ۱۴۴۴ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


