03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر نامرد ہو تو کیا حکم ہے؟
80789طلاق کے احکاموہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے

سوال

السلام علیکم 5 مئی سن 2023 میری شادی کو دو سال ہوئے ہیں۔ میرے شوہر مردانہ بیماری جوانہیں شادی سے پہلے لاحق تھی کی وجہ سے دو سال کے دورانیہ میں ایک دفع بھی میرا حقوق زوجیت ادا نہیں کر سکے شادی کے چار ماہ بعد ہماری لڑائی ہوئی میرے شوہر نے کہا میں تمہیں ہمیشہ کے لئے تمہاری امی کے گھر چھوڑ دوں گا اور میں کبھی نہیں لینےآؤ گا پھر میں نے انہیں بہت روکا کہ مجھے نہ لے کر جاؤ میری امی کے گھر وہ زبردستی مجھےمیری امی کے گھر چھوڑ آۓ۔ پھر دو دن رابطہ بھی نہیں کیا وہ بعد میں اپنے والد صاحب کے ساتھ آئے اور پھر مجھے لے گئے شروع میں وہ اپنی بیماری کا چھپاتے تھے اور وہ میرے قریب نہیں آتے تھےاگر میں کہتی تو صرف بہانہ بناتے رہتے تھے پھر لڑائی کرتے تھےشروع میں وہ طلاق دینا چائتے تھے انھہیں خاندانی دباو ہے جیس کی وجہ سے وہ ایسے کرتے ہیں چھوٹی سی بات پر کہتے تھے اپنا سامان اٹھا اور چلی جا کھبی کہنا اپنی ماں باپ کو بتا دیے میں دے دیتا ہوں مجھے کاغذ پر لکھے دیے میں دے دیتا ہوں وہ مجھے اکثر اپنی ماں کہ دیتے ہیں میں تمھارا بیٹا ہو وہ کہتے ہیں مجھے اپنا بچہ سمجھو بعد میں کہ دیتے ہیں میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا تھا یہ صورتحال دیکھ کر ایک دفعہ میں اپنی امی کے گھر چلی گی تو پھر انہوں نے کہا کہ تم آجاؤ مجھے کوئی بیماری نہیں ہے اگر میں نہیں کر سکا تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا پھر تم بے شک ہمیشہ کے لئے چلی جانا پھر میرے آنے کے بعد وہ پھر نہیں کر سکے اور پھر اپنی بات سے مکر گئے اکثر لڑائی کرتے اور کہتے ہیں اپنی امیکے گھر چلیں جاؤ اور کبھی واپس کبھی نہ آنا مجھ پر مہربانی کرنا پلیز عدالت سے خلع لے لینا کبھی کہتے ہیں کہ تمہارا دوسرا شوہر ہوگا وہ تمہیں مارے گا تنگ کرے گا اس طرح کے طعنے دیتے ہیں۔ ایک دن بار بار مجھے تنگ کر رہے تھے اور کہتے تو کیا ہر بار کہتی ہے مجھے طلاق دے دو مجھے طلاق دے دو کہہ دیتی ہے میں نے کہا کیا آپ نے مجھے طلاق دے دی ہےمیرے شوہر نے کہا ہاں۔ اب وہ کہتے ہیں میری نیت نہیں تھی طلاق کی۔ کیا طلاق واقع ہوئی یہ نہیں۔ اوراگر کوئی شخص اللہ کے نام کا عہد کرے میں تمھیں طلاق نہیں دو گا تو اگر وہ دے تو کیا وہ طلاق دے تو ہو جاۓ گی اگر ایک شخص سے کوئی دوسرا شخص وعدہ لے کہ اگر تم نے یہ کام اگلے تیس دنوں میں نہ کیا تو تم پر تمہاری بیگم حرام ہو جائے گی تم کہوں یا نہ کہوں تمہاری طرف سے تین طلاقیں تمہاری بیوی کوواجب ہوجائے گی اور اور وہ شخص وہاں کہہ دے تو کیا واقعی بیگم 30 دن میں کام نہ کرنے پر حرام ہو جاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس سوال میں مختلف حالات میں کہے گئے الفاظ اور جملے ذکر کیے گئے ہیں،ان میں سےکچھ الفاظ سے بعض حالات میں طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے،تاہم اس میں یہ واضح نہیں کہ ان الفاظ اور واقعات کی ترتیب کیاہے؟واضح رہے کہ طلاق کے الفاظ اور ان کی ترتیب سے حکم پر اثر پڑتاہے،اس لیے جو یقینی الفاظ  اور وقت وترتیب یاد ہوں اسی کے مطابق دوبارہ سوال کیجیے ۔اگرشوہرحقوق زوجیت اداکرنے کے قابل نہ ہو اورلڑکی جدائی چاہتی ہو تومرد  پردیانتالازم ہے کہ وہ اپنی بیوی پررحم کرے اورحقوق زوجیت ادا کئےبغیر اسے لٹکائے نہ رکھے،بلکہ اس کی عفت اورپاکدامنی کاخیال رکھتے ہوئے اسے طلاق دے کر نکاح سے آزاد کردے یاعورت کل مہر یابعض مہرکے بدلےخلع لے لے اوراس کے نکاح سے آزاد ہوجائے.اگر اس پر عمل نہ ہورہاہو توعورت کو عدالت کے ذریعہ  فسخ نکاح  کا  اختیا ر بھی ہے ، بشرطیکہ عورت کو نکاح سے قبل شوہر کے نامردہونے کا علم نہ ہو اور نکاح کے بعد ایک مرتبہ بھی شوہر نے وطی نہ کی ہو اسی طرح نامرد ہونے کے علم کے بعد عورت نے شوہر کے نکا ح میں رہنے پر ایک مرتبہ بھی زبانی طور پر رضا مندی ظاہر نہ کی ہو،ان تمام شرائط کے پائے جانے کی صورت میں  اگر بیوی   عدالت سے رجوع کرے تو عدالت شوہر کو علاج معالجہ کے لئے ایک سال کی مہلت دے ،اس ایک سال میں تندرست نہ ہوا تو قاضی عورت کو فسخ  کا اختیار دے گااگر وہ اسی مجلس میں تفریق کو اختیار کرے تو عدالت خود شوہر کی طرف سے قائم مقام بن کر  نکاح فسخ کردے گی۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 297):

“(وإذا كان الزوج عنينا أجله الحاكم سنة، فإن وصل إليها وإلا فرق بينهما إذا طلبت المرأة ذلك) هكذا روي عن عمر وعلي وابن مسعود، ولأن الحق ثابت لها في الوطء، ويحتمل أن يكون الامتناع لعلة معترضة، ويحتمل لآفة أصلية فلا بد من مدة معرفة ذلك، وقدرناها بالسنة لاشتمالها على الفصول الأربعة. فإذا مضت المدة ولم يصل إليها تبين أن العجز بآفة أصلية ففات الإمساك بالمعروف ووجب عليه التسريح بالإحسان، فإذا امتنع ناب القاضي منابه ففرق بينهما ولا بد من طلبها لأن التفريق حقها

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

04/محرم1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب