| 80761 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
آج کل ایفیلیٹ مارکیٹنگ کا کاروبار بہت ہی عروج پر ہے ۔ کچھ کمپنیاں ہیں جن کا نام Bizgurukul, leadsguru, leadsark,etc ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک آنلاین لرننگ پلیٹ فارم کہتی ہے اور کورسیز بیچتی ہے ۔ اس کمپنی کا خود کا ایفیلیٹ پروگرام ہوتا ہے جو کہ ان کو ہی دستیاب ہوتا ہے جنہوں نے کورس کو خریدا ہو۔ کورس خریدنے والا چاہے تو اس کورس کو آگے اور لوگوں کو بیچ کر اس سے کمیشن حاصل کر سکتا ہے ۔ کمپنی سے جڑنے کے لئے کورس خریدنا لازمی ہے ۔ کورس کی قیمت آم مارکیٹ ریٹ سے کافی زیادہ ہوتی ہے حالانکہ کمپنی اسے لوگوں کو سستا بتا کر بیچتی ہے اور جو لوگ اس میں جڑتے ہیں ان کا مقصد کورس کو بیچ کر کمیشن حاصل کرنا ہوتا ہے ناکہ اس کورس سے کچھ سیکھنا۔ جو لوگ اس کمپنی میں جڑتے ہیں انہیں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو جوڑنا ہوتا ہے اور اس پہ لوگوں کی کمائی کی تصویر ڈالنی ہوتی ہے اور قیمتی اشیاء کو دکھایا جاتا ہے اور لوگوں کو امید دی جاتی ہے کہ آپ بھی گھر بیٹھے امیر ہو سکتے ہیں اور کورس کے بارے میں جیسے کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہتا ۔ ایک اور بات اس کمپنی سے کوئی ڈائریکٹ کورس نہیں خرید سکتا بلکہ کسی میمبر ہی کے ذریعے خرید سکتا ہے اور میمبر کو اسکا 70 فیصد تک کمیشن ملتا ہے ۔ کام کرنے کا طریقہ : اگر اشرف نے یہ کورس کسی کے ذریعے خریدا اور اپنے لنک کے ذریعے زید کو بھی خریدنے پر آمادہ کرتا ہے تو اشرف کو اس سے ستر پرسنٹ تک کمیشن ملتا ہے اور باقی تیس فیصد کمپنی کو جاتا ہے اور اگر زید اسے آگے فروخت کرتا ہے تو زید کو ستر فیصد کمیشن ملتا ہے اور اشرف کو اس سے کچھ نہیں ملتا ۔ اسی طرح ہر جڑنے والا آگے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بیچ کر کمیشن حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 1- کیا ایسی کمپنی میں کام کرکے کمیشن حاصل کرنا حلال ہے یا حرام ؟ 2- اگر صرف کورس سے سیکھنے کی نیت سے جڑا جائے اور لوگوں کو آگے جوڑ کر کمیشن حاصل نہ کیا جائے تب کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایفلیٹ مارکیٹنگ کی مذکورہ صورت میں مقصد اصلی کورسزکوخرید کر خود اس سے سیکھنا اورپڑھنانہیں ہوتا،بلکہ کمپنی کا ممبر بن کر کمیشن حاصل کرناہوتاہے،اس مقصد کوسامنے رکھتے ہوئے یہ بھی ملٹی لیول مارکیٹنگ کی ایک صورت ہے،جس میں ممبر بن کرکمیشن حاصل کرنے کوخریداری کے ساتھ جوڑدیاگیاہے،شرعادومعاملات کوایک دوسرے کے ساتھ مشروط کرنے سے معاملہ خراب ہوجاتاہے،اس لیے یہ صورت درست نہیں،اس میں کام کرنااوراس سے آمدنی حاصل کرناجائزنہیں۔
اگرکورس سیکھنے کی نیت سے خریداجائے اورممبربنانے کی نیت نہ ہوتو کیاجائزہوگا؟سوال یہ ہے کہ جب یہ کورس عام مارکیٹ میں سستے داموں مل جاتاہے جیساکہ آپ نے سوال میں لکھاہے تو پھراس طرح مہنگے داموں خریدنے کاممبربننے کے علاوہ کیامقصد ہوسکتاہے؟بظاہریہی معلوم ہوتاہے کہ ممبربن کرکمیشن حاصل کرناہی مقصدہوتاہے،اس اس طرح کورس کی خریداری سے اجتناب لازم ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۴/محرم الحرام ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


