03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر رہائشی مدرسة البنات کےلیے زکوة وصول کرنا اور پھر تملیک کےبعدتنخواہوں اوردیگرمصارف میں اس کوخرچ کرنا
80758زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارے  ہمارا ایک ادارہ ہے جس میں عصری اوردینی تعلیم دی جاتی ہے،اس میں 550کے قریب بچیاں زیرِتعلیم ہیں مدرسے میں شعبہ حفظ وناظرہ ،دراسات ،درس نظامی اوردیگرشعبے ہیں  اورشارٹ کورسس بھی کروائے جاتے ہیں ،مدرسے کا ماہانہ خرچ چارلاکھ سے بھی زیادہ ہے،ہم زیرِتعلیم بچیوں سے ماہانہ فیس لیتے ہیں، نائن تک 150اور10میں250روپے وصول کرتے ہیں،ہمارے مدرسہ میں پڑھنے والی تمام بچیاں غیررہائشی  ہیں ،شام کو پڑھ کرواپس چلی جاتی ہیں، فیس  کےمذکورہ  پیسوں سے اور زکوة کی رقم سے حاصل ہونے والی جو رقوم ہوتی ہیں ان سے معلمات کی تنخواہیں پوری کی جاتی ہیں اورمدرسے کی دیگرضروریات پوری کی جاتی ہے،بچیوں کی سہولیات مثلاً بچیاں گھر سے کھانا لے کر آتی ہیں تو ان کو" اون" فراہم کیاجاتاہے اوربجلی کے بل وغیرہ میں بھی ان رقوم سےخرچ کیاجاتاہے ۔

 تو اب سوال یہ ہےکہ

١۔کیاہمارے لیے زکوة لینا جائزہے؟ اگرجائز نہیں تو مدرسے کی ضروریات کیسے پوری کی جائیں ؟

۲۔ ہمیں بعض حضرات نے ایک  حیلہ بتایا تھاجس کی بنیاد پر ہم بنات کے مدرسے کے نام پر زکوة جمع کرتے ہیں پھر بنین کے رہائشی بچوں سے تملیک کروالیتے ہیں، اس کی صورت یہ ہوتی  ہے کہ مثلاً  بنات کے نام پر ہمیں ایک لاکھ زکوة ملی اورہمارے پاس ویسے ایک لاکھ روپے اورہیں جو زکوة کے نہیں ہیں،  تو ہم اس ایک لاکھ سے جوزکوة کے نہیں ہیں بنین  مدرسے کے بچے کو قرضہ دیتے ہیں پھر وہ خوشی سے وہ رقم بنات کے مدرسے کوہدیہ کردیتاہے جس کی وجہ سے وہ مقروض ہوجاتاہے پھرہم اسے زکوة کے پیسےدیتے ہیں جس پروہ قبضہ کرکے پھراس سےمذکورہ ہمارا قرضہ  واپس کردیتاہے، تو کیا  یہ حیلہ اختیارکرناجائزہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے لئےتملیک کی آسان صورت یہ ہے کہ آپ مستحقِ زکوة بالغ طالبات، انتظامیہ یا مدرسے کے متعلقین سے

بذاتِ خود،جبکہ نابالغ طالبات کے ایسے سرپرستوں سے جو خود صاحب نصاب نہ ہوں زکوة کی وصولی پھرمدرسہ اخراجات میں اس کوخرچ کرنےکے لیے وکالت نامہ فارم پر دستخط لے لیں ،وکالت نامہ فارم پر دستخط لینے کے بعد مدرسے کی انتظامیہ ان مستحق افراد کی طرف سے وکیل بن کر لوگوں سے زکوة کی رقم وصول کرکے اساتذہ کے وظائف اور دیگر ضروریات میں خرچ کرسکے گی۔

وکالت نامہ فارم کی عبارت یوں بھی ہوسکتی ہے کہ:

"میں بالغ طالبہ /نابالغ طالبہ کا سرپرست۔۔۔۔۔۔ مدرسہ ۔۔۔۔۔۔۔ کےانچارج /منتظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شناختی کارڈ نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو اس بات کا اختیار دیتا ہوں کہ وہ میری  /  میرے زیر ِ کفالت ۔۔۔۔۔۔۔۔کی طرف سے  وکیل بن کر لوگوں سے زکوۃ اور  صدقات  واجبہ وصول کریں، پھر میری طرف سے وکیل بن کر  میری / ان کی اور دیگر مستحق طلبہ کے تعلیم و تعلم  کی جملہ ضروریات  پر خرچ کریں"

اب آپ کے سوالات کے مختصرجوابات درج ِذیل ہیں:

١۔ مذکورہ بالاحیلہ کے ساتھ آپ کےلیےزکوة کی رقم لینا جائزہوگااورپھر اس سے آپ مدرسہ کے جملہ ضروریات پوری کرسکیں گے ۔

۲۔ اس حیلے میں دوخرابیاں ہیں:

 پہلی خرابی تو یہ ہے کہ زکوة لوگ مدرسہ البنات کے لیے دیتے ہیں جبکہ آپ تملیک دوسرے مدرسہ(بنین) کے بچوں سے کراتے ہیں،اس میں مصرف کی تبدیلی ہے جومؤکل کی اجازت کے بغیرشرعا ً  درست نہیں ہے۔

اس میں دوسری خرابی یہ ہے کہ اس حیلے میں مدرسہ کی رقم غیر متعلقہ شخص کو قرض دی جارہی ہے یہ  عام حالات میں  درست نہیں ہوتا، اس لیے سوال میں مذکورحیلہ کو چھوڑکر مذکورہ بالاجواب میں ذکرکردہ حیلہ کو اختیارکیاجائے۔

حوالہ جات

وفی عمدۃ القاري( ۹؍۱۰)

والحق أنہ کان ذلک لغرض صحیح فیہ رفق للمعذور، ولیس فیہ إبطال لحق الغیر فلا بأس بہ من ذٰلک کما في قولہ تعالی: {وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہٖ وَلَا تَحْنَثْ} وإن کان لغرض فاسد کإسقاط حق الفقراء من الزکاۃ بتملیک مالہ قبل الحول لولدہ أو نحو ذلک فہو حرام أو مکروہ۔

وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (۳۸۵/۲،باب بناء المسجد و تکفین المیت)

 والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب كذا في المحيط۔  ( وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۰۸ رقم: ۴۱۴۱ زکریا)

وفی الدرالمختار( ۲؍۲۷۱ کراچی)

وحیلۃ الجواز أن یعطي مدیونہ الفقیر زکاتہ ثم یأخذہا عن دینہ۔ (، البحر الرائق ۲؍۲۲۸)وراجع ایضا(فتاویٰ محمودیہ ۹؍۴۷۷ ڈابھیل، آپ کے مسائل اور ان کا حل جدید ۵؍۱۶۱-۱۶۰)

وفی الدرالمختار( ۲؍۲۹۳ کراچی)

وحیلۃ التکفین بہا التصدق علی فقیر ثم ہو یکفن فیکون الثواب لہما وکذا في تعمیر المسجد۔  (فتاویٰ رحیمیہ ۵؍۱۵۰، کفایۃ المفتی ۴؍۲۹۳)

بدائع الصنائع " (4 / 3):

"ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز ؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير ؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم" .

وفی ردالمحتارعلی الدرالمختار:

الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره"(ردالمحتارعلی الدرالمختار،مطلب فی زکوٰۃ ثمن المبیع وفاء، ج3، ص189، دارالکتب العلمیة)

وفی الفتاوی التاتارخانیة:

"سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخر مالاً، فقال لہ: ”ھذا زکاة مالي فادفعھا إلی فلان“ ، فدفعھا الوکیل إلی آخر ھل یضمن؟ فقال: نعم، لہ التعیین"(الفتاوی التاتارخانیة، کتاب الزکوة، ج:3، ص228))

وفی البحر الرائق:

 القيم ليس له إقراض مال المسجد ، قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز (البحر الرائق،كتاب الوقف،401/5)

حاشية ابن عابدين (4/ 495)

  وما خالف شرط الواقف فهو مخالف للنص وهو حكم لا دليل عليه سواء كان نصه في الوقف نصا أو ظاهرا آه. وهذا موافق لقول مشايخنا كغيرهم شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما صرح به في شرح المجمع للمصنف آه.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

4/1/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب