| 80801 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
تین بار طلاق دیتا ھوں ایک ساتھ کہنے سے طلاق ھو گی کیااور کیا رجوع ممکن ھے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس صورت میں تین طلاقیں ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ا ور بیوی شوہر کے لیے حرام ہوگئی ہے، اور رجوع کا حق بھی ختم ہو گیا ہے۔
تین طلاقیں دینے کی صورت میں عدت کے دوران رجوع کا حق باقی نہیں رہتا اور نہ ہی عدت گزرنے کے بعد اس شوہر سے نکاح ہو سکتا ہے، جب تک عورت کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے اور اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کرے، پھر اگر وہ طلاق دیدے یا انتقال کر جائے، تو عدت گزرنے کے بعد طرفین کی رضامندی سے نئے مہر اور کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں اسی شخص سے دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم: (البقرة، الآیة: 230):
"فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ، فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ، وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ"
الفتاوى الهندية (10/ 196):
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية"
احمد الر حمٰن
دار الافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
05/محرم الحرام/1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احمد الرحمن بن محمد مستمر خان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


