03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ،دوبیٹوں اورچھ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
80805میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک صاحب نواب علی کا انتقال 1971 میں ہوا... ورثاء میں بیوی، 2 بیٹے اور 6 بیٹیاں تھیں،ان  میں ترکہ کیسے تقدسیم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے انتقال کے وقت  جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے،اس میں سب سے پہلے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات اداکئے جائیں،اگریہ اخراجات کسی وارث نےاحسان کے طورپراداکردئیے ہیں تواس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعددیکھیں اگر  ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد باقی مال کوموجود ورثہ میں تقسیم کردیں۔

نمبرشمار

ورثہ کی تفصیل

فیصدی حصہ

1

بیوہ

12.5

2

بیٹا

17.5

3

بیٹا

17.5

4

بیٹی

8.75

5

بیٹی

8.75

6

بیٹی

8.75

7

بیٹی

8.75

8

بیٹی

8.75

9

بیٹی

8.75

حوالہ جات

۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

       ۷/محرم الحرام ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب