| 80808 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
نواب علی صاحب کی ایک بیٹی صبیحہ صاحبہ کا انتقال 2020 میں ہوگیا، ان کے ورثاء میں شوہر اور 4 بیٹیاں تھیں.
نوٹ:والداوروالدہ مرحوم کاترکہ اب تقسیم ہوگا،پہلے نہیں ہواہے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ نے انتقال کے وقت جائیداد سمیت جومنقولہ اورغیرمنقولہ سامان اورنقدرقم چھوڑی ہے(اس میں نواب علی مرحوم اور والدہ مرحومہ سے حصہ میں ملنے والامال بھی شامل ہوگا)،اس میں سب سے پہلے ان کے ذمہ کسی کےقرض کی ادائیگی باقی ہوتواس کواداکریں، اس کے بعددیکھیں اگرمرحومہ نے کسی غیروارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کے بعد باقی مال کوموجود ورثہ میں تقسیم کردیں۔
|
نمبرشمار |
ورثہ کی تفصیل |
فیصدی حصہ |
|
1 |
شوہر |
25 |
|
2 |
بیٹی |
18.75 |
|
3 |
بیٹی |
18.75 |
|
4 |
بیٹی |
18.75 |
|
5 |
بیٹی |
18.75 |
---------
حوالہ جات
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۷/محرم الحرام ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


