| 80917.63 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
اسلام علیکم کیا پشتو کا لفظ 'زہ مڑی' اور گفتگو کے آخر میں 'او کے اللہ حافظ' کنایہ الفاظ میں شمار ہوتے ہیں ؟ اور کنایہ الفاظ بولتے وقت یا بولنے کے بعد میرے ذہن میں طلاق کے خیالات اور وسوے آتے ہیں تو اسکے بارے میں کیا حکم ہے -
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ طلاق کے حوالے سے بہت زیادہ خیالات اور وسوسوں میں مبتلا رہتے ہیں، اس حوالے سے واضح رہے کہ محض طلاق کا خیال یا طلاق کے وسوسے آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، اس طرح کے وسوسوں سے بچنے کی کوشش کریں اور جب بھی کوئی وسوسہ آئے تو اس کی طرف توجہ نہ دیں۔
سوال میں ذکر کردہ دونوں الفاظ طلاق کے الفاظ نہیں ہیں، ان سے طلاق واقع ہونے کے لیے بہرحال نیت شرط ہے، اس لیے عام حالات میں جبکہ طلاق کی نیت نہ ہو ان سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
حوالہ جات
رد المحتار (16/ 259)
لا يجوز طلاق الموسوس قال : يعني المغلوب في عقله ، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب.
البحر الرائق (5/ 51)
وعن أبي الليث لا يجوز طلاق الموسوس يعني المغلوب في عقله وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم تكلم بغير نظام اه.
الدر المختار: (298/3)
الكنايات ( لا تطلق بها )قضاء ( إلا بنية أو دلالة الحال ) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب فالحالات ثلاث رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب أو لا ولا ( فنحو اخرجي واذهبي وقومي ) ۔۔۔ ( يحتمل ردا) ۔۔۔ ( وفي الغضب ) توقف (الأولان ) إن نوى وقع وإلا لا.
عمر فاروق
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
۱۷/محرم الحرام/۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


