03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک کنایہ لفظِ طلاق سےتین طلاق کی نیت کرنا
80916طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

کنایہ الفاظ کے بعد دوسری اور تیسری طلاق ہو جاتی ہے اگر کوئی شخص دوسری اور تیسری کی نیت کرے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جن کنایہ الفاظ سے بائن طلاق واقع ہوتی ہے وہ اگر یکے بعد دیگرے بولے جائیں تو ان سے صرف ایک ہی بائن طلاق ہوتی ہے، چاہے کوئی دوسری تیسری بار بولتے وقت بھی طلاق کی نیت کرے، کیونکہ کنائی بائن طلاق، بائن طلاق سے لاحق نہیں ہوتی۔ البتہ اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ ایک کنایہ لفظ بول کر اس سے دو یا تین طلاقوں کی نیت کی جائےتو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کنایہ الفاظِ طلاق سے طلاق کی نیت کی جائے تو ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی اور اگر تین طلاق کی نیت کی جائے تو تین طلاقیں واقع ہوں گی، البتہ دو طلاق کی نیت کرنے کی صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔

حوالہ جات

الهداية شرح البداية (1/ 241)

قال وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة وإن نوى ثلاثا كانت بثلاث وإن نوى ثنتين كانت واحدة بائنة

شرح فتح القدير (4/ 63)

وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة فإن نوى الثلاث كانت ثلاثا وان نوى ثنتين كانت واحدة

رد المحتار (11/ 115)

أقول : ولا يخالف ما في الجوهرة ، لأن قوله ألف مرة بمنزلة تكريره مرارا متعددة ، والواقع به في أول مرة طلاق بائن ، ففي المرة الثانية لا يقع شيءلأن البائن لايلحق إذا أمكن جعل الثاني خبرا عن الأول،كما في أنت بائن أنت بائن كما يأتي بيانه في الكنايات،بخلاف ماإذا نوى الثلاث بأنت حرام أو بأنت بائن فإنه يصح"لأن لفظ واحدة صالح للبينونة الصغرى والكبرى.

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۱۷/محرم الحرام/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب