| 80906 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص جس کا نام محمد اسحاق ہے،اس کی 9 بچے تھے، 5 بیٹیاں 4اور بیٹے ۔اس وقت جن میں سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی حیات ہے، باقی کا انتقال ہو چکا ہے۔ایک بیٹی کا انتقال والد(محمد اسحاق) کی زندگی میں ہوگیا تھا، لہٰذا اب ان کا حصہ تو وراثت سے ختم ہوگیا۔ انتقال کےوقت محمد اسحاق مرحوم کے 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں حیات تھیں،جب کی اسحاق کی اہلیہ پہلے ہی انتقال کر چکی تھی۔ اسحاق کے والدین کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔اسکی وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائےاسے 12حصوں میں تقسیم کیاجائےگا ، جس میں سے 2،2 حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا ۔
نوٹ: جس بیٹی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوگیا تھا، وہ وارث نہیں ہوگی۔اسحاق مرحوم کی تقسیمِ میراث سے پہلے جن ورثاء کا انتقال ہوگیا ہے، ان کو اسحاق مرحوم سے ملنے والا حصہ میراث ،ان کے ترکے میں شامل کیا جائے گا، اور ان کے ورثاء میں تقسیم کیا جائےگا۔
|
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
بیٹا 1 |
2 حصے |
16.6666% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 2 |
2 حصے |
16.6666% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 3 |
2 حصے |
16.6666% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹا 4 |
2 حصے |
16.6666% (عصبہ بنفسہ) |
|
بیٹی 1 |
1حصہ |
8.3333% (عصبہ بغیرہ) |
|
بیٹی 2 |
1 حصہ |
8.3333% (عصبہ بغیرہ) |
|
بیٹی 3 |
1 حصہ |
8.3333% (عصبہ بغیرہ) |
|
بیٹی4 |
1 حصہ |
8.3333% (عصبہ بغیرہ) |
|
کل |
12 حصے |
%100 |
حوالہ جات
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
17/ محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


