| 80908 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
اسحاق مرحوم کے انتقال کے بعدتقسیمِ میراث سے پہلے، اس کا ایک بیٹا(عبد الرزاق) غیر شادی شدہ انتقال کر گیا، اس کی میراث کی تقسیم کس طرح کی جائے؟ عبد الرزاق کی والدہ بھی انتقال کر چکی تھی، صرف 3 بہن اور 3 بھائی حیات ہیں۔عبد الرزاق نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ وہ اپنا حصہ اپنی دو بہنوں (شہناز اور قیصر)کو دےگا، عبد الرزاق کے انتقال کے وقت یہ دونوں حیات تھیں،بعد میں ان کا بھی انتقال ہوگیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد(اسحاق مرحوم) سے ملنے والے حصے اور انتقال کے وقت عبد الرزاق( بیٹے) نے اپنی ملکیت میں سونا، چاندی، نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے9 حصے کیے جائیں گے، ہر بھائی کو دو حصے دئے جائیں اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ دیا جائے ۔
شہناز اور قیصر(بہنیں) چونکہ عبد الرزاق کی وارث ہیں، لہٰذا انہیں صرف وراثت میں سے ان کا حصہ ملےگا۔ والد(اسحاق) کی تقسیم ِ میراث اور اپنے حصے پر قبضے سے پہلے عبد الرزاق مرحوم(بیٹا) کے اس کہنے" میں اپنا حصہ اپنی دو بہنوں کو دونگا" کا کوئی اعتبار نہیں۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(سورۃ المائدہ):
"يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (176)"
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 613)
«لا وصية لوارث ولا إقرار له بدين»
الاختيار لتعليل المختار (5/ 93):
"(ثم جزء أبيه) وهم الإخوة لقوله - تعالى -: {وهو يرثها إن لم يكن لها ولد} [النساء: 176] جعله أولى بجميع المال في الكلالة وهو الذي لا ولد له ولا والد."
محمد فرحان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
17/ محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فرحان بن محمد سلیم | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


