03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اولاد کے ہوتے ہوئے بھائی بہن کے لیے میراث
80907میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کوثر  کا انتقال ہوگیا ہے، اس کے 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، شوہر حیات ہیں۔ چار بھائی اور تین بہنیں بھی حیات ہیں۔ اس کی میراث کی تقسیم کیسے کی جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا، چاندی،نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ترکہ میں سے سب سے پہلے ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے اس کے 40  حصے کر کے درج ذیل نقشے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے۔

نوٹ : اولاد کے ہوتے ہوئے بھائی بہن وارث نہیں ہونگے۔

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

 شوہر   

10  حصے

25 % ( ربع)

بیٹا   1

6 حصے

    15% (عصبہ بنفسہ)

بیٹا    2 

6 حصے

15%       (عصبہ بنفسہ)

 بیٹا     3

6 حصے

15%      (عصبہ بنفسہ)

بیٹی 1

3 حصے

7.5%     (عصبہ بغیرہ)

بیٹی 2

3 حصے

7.5%      (عصبہ بغیرہ)

 بیٹی 3

3 حصے

7.5%    (عصبہ بغیرہ)

بیٹی4

3 حصے

    7.5% (عصبہ بغیرہ)

کل

40 حصے

%100

 

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]

{فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْن} [النساء: 12]

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

17/ محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب