03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اولاد ہو تو بھائی بہن وارث نہیں ہوتے
80909میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عبد الستار کے والدکے انتقال کو کافی عرصہ گزر چکا ہے،اب تک ان کی میراث تقسیم نہیں ہوئی۔ والد کی میراث  کی تقسیم   سے پہلے عبد الستار کا انتقال ہوگیا ۔اس کے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، بیوی بھی حیات ہے۔ والدہ پہلےانتقال کر چکی ہیں۔  عبد الستار کی میراث کی تقسیم کیسے ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد سے ملنے والا حصہ اور مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا،  چاندی، نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے 16 حصے کر کےدرج ذیل نقشے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے۔

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

 بیوی   

2  حصے

        12.5% ( ثمن)

بیٹا   1

2 حصے

    12.5% (عصبہ بنفسہ)

بیٹا    2 

2 حصے

12.5%       (عصبہ بنفسہ)

 بیٹا     3

2 حصے

12.5%      (عصبہ بنفسہ)

بیٹا     4

2 حصے

12.5%      (عصبہ بغیرہ)

بیٹا     5

2 حصے

12.5%      (عصبہ بغیرہ)

 بیٹا     6

2 حصے

12.5%     (عصبہ بغیرہ)

بیٹی 1

1 حصہ

      6.5% (عصبہ بغیرہ)

بیٹی 2

1 حصہ

     6.5% (عصبہ بغیرہ)

کل

16 حصے

%100

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]

{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم} [النساء: 12]

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

17/ محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب