03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے انتقال کے بعد فوت ہونے والی اولاد کے لیے میراث
80910میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عبد الرحمٰن کا انتقال ہوچکا ہے، والدین پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ انتقال کے وقت عبد الرحمٰن کے 4 بیٹے اور ایک بیٹی  تھی، بعد میں بیٹی کا انتقال ہوگیا۔ عبد الرحٰمن کی بیوہ بھی زندہ ہے۔ اس کی میراث تقسیم کر دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  سونا،  چاندی، نقدی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب ان کا ترکہ یعنی میراث ہے ۔اس سے متعلق حکم یہ ہے  کہ سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا ۔اس کے بعد اگر ان  کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں  نے کسی غیر ِوارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی(1/3) ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو بچ جائے 72 حصے کر کےدرج ذیل نقشے کے مطابق ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے۔

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

 بیوی  

9  حصے

12.5% (ثمن)

بیٹا  1   

14 حصے

19.4444% (عصبہ بنفسہ)

بیٹا    2 

14 حصے

19.4444% (عصبہ بنفسہ)

 بیٹا     3

14 حصے

19.4444% (عصبہ بنفسہ)

بیٹا 4

14حصے

19.4444% (عصبہ بنفسہ)

بیٹی

7 حصہ

9.7222% (عصبہ بغیرہ)

 کل

72 حصے

100 %  

حوالہ جات

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء: 11]

{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم} [النساء: 12]

محمد فرحان

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

17/ محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فرحان بن محمد سلیم

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب