03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقداجارہ کےبغیرہدیہ کے نام سے حق خدمت اجرت نہیں۔
80942اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ ایک شخص جوکہ اپنے دوست کے مال کو بغیر متعین معاوضہ کے  بیچ رہا ہے، گذشتہ سالوں کے تجربہ سے یہ واضح ہے کہ وہ ہرسال مالک کو خاصہ نفع دے رہا ہے ،مالک دوست کو مال بیچنے پر بطور ہدیہ کےکچھ رقم دیتا ہے، جو وہ بخوشی قبول کرلیتا ہے،اگر یہ اجارہ کی صورت ہوتی تو اجرت معین نہ ہونے کی بناء پر معاملہ ناجائز تھا ،لیکن چونکہ معاملے کی نوعیت طے نہیں اور مالک بھی اس کو خدمت کا بدل ہدیہ کے طور پر دے رہا ہے تو کیا یہ شرعا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس طرح حق خدمت ہدیہ کے نام سے دینا جائز ہے، لیکن اگر خدمت وصول کرنے والا  حق خدمت دینے سے انکار کردے تو اس پر جبر نہیں کیا جاسکے گا۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۹محرم۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب