03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک مجلس میں تین طلاقوں کاحکم
81407طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص کاآئےدن بیوی سے کسی نہ کسی بات پرجھگڑاہونامعمول کی بات ہے،میاں شدیدغصہ والاہے،جبکہ بیوی بھی شدیدزبان درازہے،دونوں کاآپس میں جھگڑاہوا اورمیاں نے بیوی کوشدید غصہ کی حالت میں یہ الفاظ بولے:میری طرف سے تمہیں طلاق ہے،تین چارمرتبہ ایک ہی سانس میں اورایک ساتھ بولے،کیااس طرح ایک وقت میں ایک ساتھ کہنے سے تین طلاقیں واقع ہوگئیں یاایک طلاق واقع ہوئی ہےاوررجوع ہوسکتاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہے خواہ ایک مجلس میں دی جائیں یا متفرق مجلسوں میں، ایک لفظ سے دی جائیں یا الگ الگ الفاظ سے، پس صورت مسئولہ میں اگرمردنے اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں تواس سے اس  کی بیوی پر  تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، دونوں کا رشتہٴ نکاح بالکلیہ ختم ہوگیا، اب  شرعی حلالہ کے بغیردونوں کانکاح نہیں ہوسکتا۔

شرعی حلالہ کامطلب یہ ہے کہ مطلقہ خاتون عدت گذارنے کے بعدکسی دوسرے مردسے شرعی طریقہ (دومردیاایک مرداوردوعورتوں کی موجودگی) کے مطابق نکاح کرے،اب اگریہ شوہرصحبت کرکے طلاق دیتاہے یافوت ہوجاتاہے تواس خاتون کاعدت مکمل کرنے کے بعدپہلے شوہرسے نکاح کرنادرست ہوگاورنہ نہیں۔

حوالہ جات

فی صحيح البخاري (ج 5 / ص 2014):

عن عائشة  : أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه و سلم أتحل للأول ؟ قال ( لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول )

وفی صحيح البخاري (ج 7 / ص ):

نافع قال كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك۔

وفی عمدة القاري شرح صحيح البخاري (ج 30 / ص 65):

 ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون عل أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن ولكنه يأثم، وقالوا من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة ،وإنما تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التي لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة وأجاب الطحاوي عن حديث ابن عباس بما ملخصه إنه منسوخ۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

   ۱۹/ربیع الاول ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب