03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کے مطالبے پر شوہر کا تین دفعہ “خلع دیتا ہوں” لکھ کر دینے کا حکم
80956طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے خلع کے مطالبہ پر خلع لکھ کر دیدے، جیسا کہ منسلکہ خلع نامہ میں ہے، جبکہ طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے تو کیا حکم ہوگا؟ کیا منسلکہ خلع نامہ کی رو سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟ اور کیا اب عدت گزرنے کے بعد لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے؟ برائے مہربانی طلاق اور خلع کا مطلب واضح کردیں۔

وضاحت از مجیب: منسلکہ خلع نامہ میں بیوی نے لکھا ہے کہ "میں مسماہ سمیعہ ناز دختر محمد سلیم ۔۔۔۔ خلع کا مطالبہ کرتی ہوں، خلع کے عوض مہر سے دستبردار ہوتی ہوں۔۔۔ الخ"۔ اس کے جواب میں شوہر نے نیچے لکھا ہے "میں مسمی طارق منیر حسین احمد ولد رئیس احمد مذکورہ بالا خلع کا مطالبہ منظور کرتا ہوں اور مسماہ سمیعہ ناز بنتِ محمد سلیم کو مہر کے عوض خلع دیتا ہوں۔ خلع دیتا ہوں۔ خلع دیتا ہوں۔۔۔ الخ"۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کا مطلب شوہر کا بیوی کو اپنے نکاح سے آزاد کرنا ہے۔ خلع کا مطلب بیوی کا مہر یا کسی اور چیز کے عوض شوہر سے آزادی مانگنا ہے۔ خلع طلاقِ بائن کے حکم میں ہے، طلاقِ بائن کا حکم یہ ہے کہ اس سے نکاح ختم ہوجاتا ہے اور شوہر کو رجوع کا اختیار نہیں ہوتا۔  

صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے مہر کے عوض بیوی کے خلع کا تحریری مطالبہ منظور کرلیا تو پہلی دفعہ "مہر کے عوض خلع دیتا ہوں" کے الفاظ سےخلع ہوگیا اور سمیعہ ناز بنتِ محمد سلیم طارق منیر حسین احمد ولد رئیس احمد کے نکاح سے نکل گئی۔ اس کے بعد دو دفعہ " خلع دیتا ہوں، خلع دیتا ہوں" کے الفاظ لکھنے سے شرعا کچھ نہیں ہوا۔ اب سمیعہ ناز بنتِ محمد سلیم عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (6/ 308):

قال: وإذا اختلعت المرأة من زوجها فالخلع جائز، والخلع تطليقة بائنة عندنا.

تحفة الفقهاء (2/ 185):

ومنها أن المبانة والمختلعة يلحقها صريح الطلاق ما دامت في العدة عندنا، خلافا للشافعي،  وأجمعوا أنه لا تلحقها الكنايات المزيلة للنكاح، والمسألة معروفة.

المبسوط للسرخسي (6/ 151):

قال: ولو قال بعد الخلع أو التطليقة البائنة لها في عدتها أنت طالق عندنا يقع الطلاق عليها، وعند الشافعي رضي الله تعالى عنه لايلحق البائن الصريح كما لا يلحقه بائن حتى لو قال لها بعد الخلع أنت بائن لا يقع الطلاق وإن نوى، فكذلك إذا قال أنت طالق……. والفرق بين قوله أنت طالق وبين قوله بائن ما ذكر محمد رحمه الله تعالى في الكتاب وقد طوله، وحاصل ما قال أن قوله بائن لا يعمل إلا بارادة الفرقة أو رفع النكاح، وبعد البينونة لا يتحقق هذا، فأما قوله طالق عامل بنفسه من غير إرادة فرقة أو رفع نكاح، فيشترط لصحته قيام المحل. توضيح الفرق أن قوله بائن عامل في حقيقة موجبه، وهو قطع الوصلة، ووصلة النكاح بينهما منقطعة، ولا أثر لهذا اللفظ في قطع وصلة العدة، فخلى عن موجبه، فأما موجب الطلاق فهو رفع الحل كما بينا، والإيقاع بعد البينونة عامل في موجبه؛ لأنها تحرم به إذا تم العدد ثلاثا.

رد المحتار (3/ 307):

وفي المنصوري شرح المسعودي للراسخ المحقق أبي منصور السجستاني: المختلعة يلحقها صريح الطلاق إذا كانت في العدة، والكناية أيضا تلحقها إذا كانت في حكم الصريح كاعتدي الخ. ثم قال والكنايات والبوائن لا تلحقها أي المختلعة وإن كان الطلاق رجعيا يلحقها الكنايات؛ لأن ملك النكاح باق. قال في عقد الفرائد: هذا مؤيد لما في الفتح ومعنى العطف في قوله المنصوري والبوائن ما أوقع من البوائن لا بلفظ الكنايات فإنه يلغو ذكر البائن كما أطبقوا عليه اه.  ونقله في النهر وأقره.

أقول: والصواب أن الواو في "والبوائن" زائدة من الناسخ، وأن مراد المنصوري الكنايات البوائن المقابلة للكنايات الرجعية التي ذكرها قبله؛ لما علمته من أن البوائن بغير لفظ الكناية من الصريح الذي يلحق البائن، وإلا صار منافيا لكلام الفتح، لا مؤيدا له، فتدبر.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      20/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب