03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو طلاقوں سے رجوع کرنے کے بعد تیسری طلاق دینے کا حکم
80949طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

محسن خان نے اپنی اہلیہ شاہین خان کو کچھ عرصہ قبل گھریلو ناچاقی کی وجہ سے دو طلاقیں اسٹام پیپر پر لکھ کر عدالت کے ذریعے بھجوا دیں، پھر میاں بیوی میں صلح ہوگئی، مسئلہ پوچھنے کے بعد دوبارہ نکاح ہوگیا اب دوبارہ دو مہینوں میں متعدد بار غصہ میں اپنی کو یہ الفاظ کہہ چکا ہے : ’جا میں نے تجھے طلاق دی چل اٹھ چلی جا میں نے تجھے طلاق دے دی‘ پھر اس کے بعد کہتا ہے میں تو مذاق کر رہا تھا۔

اب شرعی حکم کیا ہے طلاق ہوئی یا نہیں؟ اس کی بیوی اس کے ساتھ رہ سکتی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسٹام پیپر پر دو طلاقیں لکھ کر عدالت کے ذریعے سے بھجوانے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی رہ گیا تھا۔ سوال میں ذکر کردہ الفاظ طلاق کے ہیں جن سے طلاق واقع ہونے کے لیے نیت ضروری نہیں، بلکہ بلا نیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ شوہر کا یہ کہنا کہ مذاق کر رہا تھا معتبر نہیں، کیونکہ طلاق کے الفاظ اگر مذاق میں بھی کہے جائیں تو ان سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

لہٰذا تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اب دونوں ساتھ نہیں رہ سکتے اور رجوع کے لیے حلالہ شرعیہ ضروری ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (3/ 100)

وكذا كونه جادا ليس بشرط فيقع طلاق الهازل بالطلاق واللاعب لما ’روى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال ثلاث جدهن وهزلهن جد النكاح والطلاق والعتاق وروى النكاح والطلاق والرجعة‘. وعن أبي الدرداء رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال من لعب بطلاق أو عتاق لزمه وقيل فيه نزل قوله سبحانه وتعالى { ولا تتخذوا آيات الله هزوا } وكان الرجل في الجاهلية يطلق امرأته ثم يراجع فيقول كنت لاعبا ويعتق عبده ثم يرجع فيقول كنت لاعبا فنزلت الآية فقال صلى الله عليه وسلم من طلق أو حرر أو نكح فقال إني كنت لاعبا فهو جائز منه.

المبسوط للسرخسي (6/ 14)

قال: ولا تحل له المرأة بعد ما وقع عليها ثلاث تطليقات حتى تنكح زوجا غيره يدخل بها والطلاق محصور بعدد الثلاث ولا خلاف بين العلماء أن بيان التطليقتين في قوله تعالى: {الطَّلاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: 229] وإنما اختلفوا في الثالثة فقيل هي في قوله: {أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229] وهكذا روي أن أبا رزين العقيلي رضي الله عنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال عرفنا التطليقتين في القرآن فأين الثالثة فقال صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229] وأكثرهم على أن بيان الثالثة في قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً} [البقرة: 230] لأنه عند ذكرها ذكر ما هو حكم الثالثة وهو حرمة المحل إلى غاية ومعناه فإن طلقها الثالثة ولا خلاف بين العلماء أن النكاح الصحيح شرط الحل للزوج الأول بعد وقوع الثلاث عليها.

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۰/محرم الحرام/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب