03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عام راستے میں گٹر یا مین ہول تعمیر کرنا
80998جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

عام راستے میں گٹر یا مین ہول تعمیر کرنا کیسا ہے؟ نیز اگر گٹر راستے میں نہ ہو، لیکن باتھ روم وغیرہ سے نکلنے والا پانی راستے میں جمع ہورہا ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ بینوا توجروا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عام راستہ میں کوئی ایسا تصرف کرناجس سےراستہ پرگزرنےوالوں کو تکلیف ہو،جائز نہیں،لہذا  باتھ روم کے پانی کاعام راستہ میں جمع ہوناچونکہ ایذاء کا باعث ہے،لہذا یہ ناجائز ہے اور مین ہول اور گٹر بنانے سےاگر راستےسے گزرنے والوں کو تکلیف ہو تو جائز نہیں ،ورنہ جائز ہے، مثلا  اگرمین ہول، گٹراور اس کی لائن سب زیر زمین ہو ں تو جائز ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 592)

(أخرج إلى طريق العامة كنيفا) هو بيت الخلاء (أو ميزابا أو جرصنا كبرج وجذع وممر علو وحوض طاقة ونحوها عيني أو دكانا جاز) إحداثه (وإن لم يضر بالعامة) ولم يمنع منه، فإن ضر لم يحل كما سيجيء (ولكل أحد من أهل الخصومة) ولو ذميا (منعه) ابتداء (ومطالبته بنقضه)

ورفعه (بعده) أي بعد البناء، سواء كان فيه ضرر أو لا وقيل إنما ينقص بخصومته إذا لم يكن له مثل ذلك وإلا كان تعنتا زيلعي (هذا) كله (إذا بنى لنفسه بغير إذن الإمام) زاد الصفار ولم يكن للمطالب مثله (وإن بنى للمسلمين كمسجد ونحوه) أو بنى بإذن الإمام (لا) ينتقض (وإن كان يضر بالعامة لا يجوز إحداثه) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا ضرر ولا ضرار في الإسلام»

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۵محرم۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب