| 81086 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی پھر رجوع کر لیا، کچھ عرصہ بعد دوسری طلاق دے کر رجوع کرلیا، پھر کچھ سال بعد تیسری طلاق بھی دے کر رجوع کرلیا، کیا ایسے شخص کا نکاح برقرار ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ صورت میں پہلی اور دوسری طلاق کے بعد رجوع صحیح تھا، لیکن تیسری طلاق کے بعد رجوع درست نہیں، لہٰذا موجودہ حالت میں جب تک تحلیلِ شرعی نہ ہو زوجین کا ایک ساتھ رہنا، ناجائز اور حرام ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع (187/3):
"وأما الطلقات الثلاث، فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا، حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
27/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


