03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے دستخط اور اجازت کے بغیر عدالتی خلع کا حکم
81087طلاق کے احکاموہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے

سوال

1. ہمارے محلے میں ایک لڑکی نے دوسرے لڑکے کے ساتھ بھاگ کر کورٹ میرج کی، دو سال بعد اُس لڑکی کے والدین اپنے داماد کے گھر گئے اور قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائی کہ دس دن بعد بچی کو واپس کرو، چنانچہ داماد نے بیوی کو والدین کے ہمراہ بھیج دیا، اس کے بعد لڑکی کے والدین نے کورٹ سے خلع لے لیا، پھر اپنی بیٹی کی شادی کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ کردی۔ حالانکہ پہلا شوہر کورٹ بھی نہیں گیا اور اپنی بیوی کو طلاق بھی نہیں دی۔

2. اسی طرح ہمارے محلے میں ایک گھرانے میں یہ مسئلہ درپیش تھا کہ شوہر نشئی اور چور تھا، اس لیے لڑکی کے والد نے کورٹ سے خلع لے لیا، لیکن لڑکا عدالتی نوٹس ملنے کے باوجود کورٹ میں حاضر نہیں ہوا۔

کیا مذکورہ دونوں صورتوں میں کورٹ اس طرح نکاح کو ختم کر سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جواب سے پہلے چند باتیں بطور تمہید ملاحظہ ہوں:

1) پہلی بات یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں نکاح کے وقت لڑکے کا درجِ ذیل چیزوں میں لڑکی کے ہم پَلّہ ہونا ضروری ہے، اس کو فقہی اصطلاح میں "کفاءت" کہتے ہیں:

أ.   نسب، یعنی خاندانی شرافت ہو۔

ب. دینداری، یعنی احکامِ شریعت کی پابندی میں برابری ہو۔

ج.  مالداری، یعنی لڑکا اتنا مالدار ہوکہ وہ بیوی کا مہرِ معجّل اور نفقہ دے سکتا ہو۔

د.   پیشہ، یعنی لڑکے کا پیشہ ایسا ہوکہ عُرف میں وہ لڑکی والوں کے پیشے سے زیادہ حقیر اور کمتر نہ سمجھا جاتا ہو۔

اگر لڑکے کا خاندان مذکورہ امور میں لڑکی کے خاندان کے ہم پَلّہ ہو اور لڑکا، لڑکی اولیاء کی اجازت کے بغیر پسند کی شادی کرلیں، تو نکاح بہرحال منعقد ہو جائے گا۔ تاہم ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شریعت اور معاشرے کی نگاہ میں انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ البتہ حنفیہؒ کے صحیح قول کے مطابق ولی کی اجازت کے بغیر غیرِ کفو میں کیا ہوا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

2) دوسری بات یہ ہے کہ عدالتی خلع کے معتبر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں خلع کی شرائط کا لحاظ رکھا جائے، مثلاً: خلع منعقد ہونے کے لیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے، اس لیے اگر عدالت سے شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جائے، تو وہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگا، اور مرد و عورت کا نکاح بدستور باقی رہے گا۔ البتہ شوہر کی رضامندی کے بغیر درجِ ذیل صورتوں میں عدالتی خلع معتبر ہوتا ہے:

أ.   شوہر نامرد ہو۔

ب. شوہر مُتعنِّت ہو، یعنی نان و نفقہ بھی نہ دیتا ہو اور طلاق بھی نہ دیتا ہو۔

ج.  شوہر مفقود ہو کہ اُس کے حال احوال کا علم نہ ہو۔

د.   شوہر غائب غیر مفقود ہو، یعنی اُس کا پتہ تو معلوم ہو، البتہ نہ وہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بُلاتا ہو۔

ھ.  شوہر ایسا ذہنی مریض ہو یا بیوی پر ایسا تشدد کرنے والا ہوکہ اُس کے ساتھ رہنے میں ناقابلِ برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

ان صورتوں کے علاوہ عدالت سے شوہر کی رضامندی کے بغیر جاری کردہ خلع یا فسخِ نکاح کی ڈگری شرعاً غیر معتبر ہوتی ہے۔

1. ان تمہیدات کے بعد سوال میں مذکورہ پہلی صورت کا جواب یہ ہے کہ اگر لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر پسند کا نکاح غیرِ کفو میں کیا تھا، تو وہ نکاح ہی منعقد نہیں ہوا تھا، اس لیے خلع کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ لڑکی کے اولیاء پر بچی کو اُس کے مبیَّنہ شوہر سے جدائی کروانا لازم تھا۔

لیکن اگر لڑکی نے کفو میں عدالت کے ذریعہ نکاح کیا تھا تو یہ نکاح بہرحال منعقد ہو چکا تھا، چنانچہ لڑکی کے اولیاء کا کسی شرعی وجہ کے بغیر عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کروانا جائز نہیں تھا، لہٰذا عدالت سے جاری کردہ خلع کی ڈگری کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اس لیے لڑکی کا پہلے شوہر سے نکاح بدستور باقی ہے، اور دوسرے مرد کے ساتھ نکاح منعقد نہیں ہوا۔

2. اسی طرح سوال میں مذکورہ دوسری صورت میں لڑکے کے حوالے سے چور اور نشئی کا محض دعویٰ ہونا خلع لینے کے لیے کافی نہیں ہے، لہٰذا اس کی بنیاد پر عدالت سے جاری کردہ خلع کی ڈگری شرعاً معتبر نہیں ہے، اور مرد و عورت کا نکاح بدستور باقی ہے۔

لیکن اگر لڑکا ذہنی مریض بھی ہے یا بیوی پر ناقابلِ برداشت تشدد کرتا ہے، یا اہل و عیال کا نان و نفقہ نہیں دیتا ہے، اور طلاق دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے، اور عدالت میں شوہر کے خلاف یہ الزامات شرعی گواہوں سے ثابت کیے جا چکے ہوں، تو ایسی صورت میں شوہر کے دستخط نہ ہونے کے باوجود فسخِ نکاح کی یہ ڈگری شرعاً معتبر ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (290/1):

"‌الكفاءة ‌تعتبر في أشياء (منها: النسب) ... (ومنها: اسلام الآباء) ... (ومنها الحرية) ... (ومنها الكفاءة في المال)."

رد المحتار (84/3):

"‌المرأة ‌إذا ‌زوجت نفسها من كفء لزم على الأولياء، وإن زوجت من غير كفء لا يلزم."

أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص:165):

"أما القاضي ‌فلا ‌يطلق ‌الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: نص القانون رقم 25 سنة 1920 على اثنتين منها: وهما التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب. ونص القانون رقم 25 سنة 1929 على الثلاث الباقية، وهي: التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه، ... التطليق لعدم الإنفاق: إذا كان للزوج مال ظاهر يمكن تنفيذ النفقة فيه بالطرق المبينة بلائحة التنفيذ، فللزوجة أن تستوفي نفقتها منه وليس لها أن تطلب تطليقها منه لعدم إنفاقه عليها، سواء كان الزوج حاضرا أو غائبا قريب الغيبة أو بعيدها؛ لأن غرضها وهو حصولها على نفقتها يتحقق بالتنفيذ في ماله الظاهر.

وإذا لم يكن للزوج مال ظاهر يمكنها أن تنفذ نفقتها فيه، فإما أن يكون حاضرا أو غائبا، غيبة قريبة أو بعيدة.

فإن كان حاضرا وادعت عليه زوجته أنه تاركها بلا نفقة، وليس له مال ظاهر تستوفي نفقتها منه، وطلبت تطليقها منه لذلك، فإن قال: إني معسر وصادقته الزوجة على إعساره، أو لم تصادقه فأثبته بالبينة، ففي هاتين الحالتين اللتين ثبت فيهما إعساره بتصادقهما أو ببينته، يمهله القاضي مدة لا تزيد على شهر، فإن أنفق فلا تطلق، وإلا طلقها منه القاضي بقوله طلقتك منه.

وإن اعترف بأنه موسر، أو سكت عن بيان حاله من يسار أو إعسار، أو قال إني معسر ولم يثبت قوله بمصادقتها أو بينته، وأصر في كل حالة من هذه الحالات الثلاث على عدم الإنفاق، وأصرت هي على طلب التطليق، طلق عليه القاضي في الحال بدون إمهال ...

التطليق للعيب: إذا وجدت الزوجة بزوجها عيبا مستحكما لا يمكن البرء منه أو يمكن بعد زمن طويل، ولا يمكنها المقام معه إلا بضرر كالجنون والجذام والبرص، فلها أن تطلب من القاضي تطليقها منه، سواء كان ذلك العيب بالزوج قبل العقد ولم تعلم به أم حدث بعد العقد ولم ترض به، فإن تزوجته عالمة بالعيب، أو حدث العيب بعد العقد، ورضيت به صراحة أو دلالة بعد علمها، فليس لها طلب التطليق لأجله.

وليست عيوب الزوج التي تسوغ طلب التطليق محصورة، وإنما المدار على كون العيب مستحكما لا يمكن البرء منه أو يمكن بعد زمن طويل، ولا تستطاع العشرة معه إلا بضرر أيا كان نوعه...

التطليق للضرر: إذا ادعت الزوجة على زوجها إضراره بها بأي نوع من أنواع الضرر الذي لا يستطاع معه دوام العشرة بين أمثالها، كأن ادعت عليه أنه يضربها ضربا مبرحا، أو أنه يسبها أو يكرهها على محرم، وطلبت من القاضي تطليقها منه بناء على هذا الضرر، فإذا ثبت الضرر الذي ادعته سواء كان ثبوته باقرار الزوج أو بينته الزوجة وكان من أنواع الضرر الذي لا تستطاع معه العشرة بين أمثالهما، وعجز القاضي عن الإصلاح بينهما طلقها منه."

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

27/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب