03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کے ورثاء کا دور دراز سے آئے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کا حکم
81088جنازے کےمسائلتعزیت کے احکام

سوال

ہمارا تعلق ضلع سوات کوہستان سے ہے، ہمارے گاؤں میں قرب و جوار میں کوئی ہوٹل اور بازار نہیں ہے، جب کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو جنازے میں شرکت کے لیے دور دراز سے رشتہ دار آتے ہیں، جنازہ ظہر کے بعد ہوتا ہے، ایسی صورت میں میت کے اہلِ خانہ مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کر سکتے ہیں؟ کیونکہ وہ لوگ دور دراز سے آنے کی وجہ سے کھانے کے لیے اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میت کے اہلِ خانہ پر مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرنا لازم نہیں ہے، بلکہ یہ عمل خلافِ شرع رسم و بدعت ہے، البتہ ایسے لواحقین جو دور دراز سے آئے ہوں اور ان کے لیے اسی روز اپنے گھروں کو لوٹنا ممکن نہ ہو، تو ایسی صورت میں بقدر ضرورت ایک، دو وقت کے لیے میت کے اہلِ خانہ کی طرف سے کھانے کا بندوبست کرلینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام اہلِ میت کے قریب رہنے والے رشتہ دار اور پڑوسی کریں۔ غم کے اس موقع پر خود اہلِ میت پر کھانا تیار کرنے کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔

حوالہ جات

الدر المختار (665/6):

"أوصى باتخاذ الطعام بعد موته ويطعم الدين يحضرون التعزية جاز من الثلث، ويحل لمن طال مقامه ومسافته، لا لمن لم يطل ... قلت: وحمل المصنف الأول على طعام يجتمع له النائحات بقيد ثلاثة أيام، فتكون وصية لهن، فبطلت، والثاني على ما كان لغيرهن."

رد المحتار (665/6):

"(قوله: ويحل لمن طال مقامه ومسافته) ويستوي فيه الغني والفقير. خانية. وتفسير طول المسافة أن لا يبيتوا في منازلهم. ظهيرية. والمراد أن لا يمكنهم المبيت فيها لو أرادوا الرجوع إليها في ذلك اليوم."

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

27/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب