| 81089 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
جب مَیں گاؤں جاتا ہوں تو اکثر و بیشتر امامِ مسجد غائب ہوتے ہیں اس لیے مجھے امامت کرانی پڑتی ہے، اس طرح کئی سالوں تک مَیں نے اپنے گاؤں کی مسجد میں نماز پڑھائی ہے۔ لیکن میرے مقتدیوں نے 2019ء کو میری زمین کے 400 فٹ حصےپر یہ کہہ کر قبضہ کرلیا کہ ہم اس کی قیمت ادا کریں گے، مگر ان لوگوں نے قیمت کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لیا، اور جرگہ کی وجہ سے صرف آدھی قیمت ادا کی ہے۔ میرے گاؤں کے لوگ انتہائی جاہل ہیں، مَیں ان سے مطمئن نہیں ہوں۔ ایسی صورت میں مجھے ان لوگوں کی امامت کرانی چاہیے یا انفرادی نماز پڑھنی چاہیے؟ انفرادی نماز پڑھنے کی صورت میں مَیں گناہگار ہوں گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ اپنے گاؤں کے لوگوں کے بُرے اخلاق و عادات سے مطمئن نہیں ہیں، تو آپ قریب کے کسی محلے کی مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلیا کریں، یا اپنے محلے کی مسجد میں مقرر امام کی اقتداء میں نماز پڑھ لیا کریں۔ اور جب امام صاحب نہ ہوں تو آپ کے لیے لوگوں کی امامت کرانا بہتر ہے۔ لیکن محلے کے لوگوں کے بُرے اخلاق و عادات کی وجہ سے جماعت ترک کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (231/1):
"عن عبد الله بن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة».
الفتاوى الهندية (82/1):
"الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي. وفي الغاية: قال عامة مشايخنا: إنها واجبة. وفي المفيد: وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة. وفي البدائع: تجب على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج."
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
27/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


