| 81090 | جنازے کےمسائل | شہید کے احکام |
سوال
اگر کوئی اتفاقی حادثے میں شہید ہو جائے، تو اُس شہید اور میدانِ جہاد کے شہید میں کوئی فرق ہے یا اللہ تعالیٰ کے ہاں درجے میں دونوں برابر ہیں؟ نیز روزِ قیامت شہید اپنے والدین کی مدد کا ذریعہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شہید کی دو اقسام ہیں:
1. دنیوی شہید: یہ وہ شہید ہے جس پر شہادت کے دنیوی احکام لاگو ہوتے ہیں، یعنی اس کو غسل و کفن نہیں دیا جاتا، بلکہ جن کپڑوں میں شہادت کا درجہ ملا ہوتا ہے انہی کپڑوں میں نمازِ جنازہ پڑھ کر دفنا دیا جاتا ہے۔ شہید کی یہ قسم اُن لوگوں کو شامل ہے جو اللہ کے راستے میں اُس کا نام بلند کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرلیں، بشرطیکہ ان کو ایک نماز کا وقت گزرنے تک زندگی کی سانسیں لینے کا موقع نہ ملا ہو، نیز علاج و معالجہ اور وصیت کے بغیر ان کی روح نکل جائے۔
2. اُخروی شہید: یہ وہ شہید ہے جس کے بارے میں احادیث میں شہادت کی بشارتیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ایسے شخص پر شہادت کے دنیاوی احکام لاگو نہیں ہوتے، بلکہ عام میتوں کی طرح ان کی تجہیز ، تکفین اور تدفین عمل میں لائی جاتی ہے۔ شہادت کی اس قسم میں وہ شہید شامل ہے جو کسی حادثے میں انتقال کرجائے۔
نیز قرآن و حدیث میں جہاں شہید کے فضائل بیان کیے گئے ہیں، اُس سے مراد حقیقی شہید ہے۔ اور حکمی شہید کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ سے شہادت کے اجر و ثواب کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ نیز حدیث میں آتا ہے کہ شہید اپنے رشتہ داروں میں سے ستر لوگوں کی سفارش کرے گا۔
حوالہ جات
الدر المختار (247/2):
"الشهيد ... (هو كل مكلف مسلم طاهر) ... (قتل ظلما) بغير حق (بجارحة) أي بما يوجب القصاص (ولم يجب بنفس القتل مال) بل قصاص، حتى لو وجب المال بعارض كالصلح، أو قتل الأب ابنه لا تسقط الشهادة، (ولم يرتث) فلو ارتث، غسل، كما سيجئ. (وكذا) يكون شهيدا (لو قتله باغ أو حربي أو قاطع طريق، ولو) تسببا أو (بغير آلة جارحة)؛ فإن مقتولهم شهيد بأي آلة قتلوه، لأن الأصل فيه شهداء أحد ولم يكن كلهم قتيل سلاح، (أو وجد جريحا ميتا في معركتهم). المراد بالجراحة علامة القتل ... (فينزع عنه ما لا يصلح للكفن، ويزاد) إن نقص ما عليه عن كفن السنة (وينقص) إن زاد (ل) أجل أن (يتم كفنه) المسنون (ويصلى عليه بلا غسل ويدفن بدمه وثيابه)؛ لحديث: زملوهم بكلومهم...
وكل ذلك في الشهيد الكامل، وإلا فالمرتث شهيد الآخرة، وكذا الجنب ونحوه، ومن قصد العدو فأصاب نفسه، والغريق والحريق والغريب والمهدوم عليه والمبطون والمطعون والنفساء والميت ليلة الجمعة وصاحب ذات الجنب ومن مات وهو يطلب العلم، وقد عدهم السيوطي نحو الثلاثين ."
رد المحتار (252/2):
"(قوله: في الشهيد الكامل) وهو شهيد الدنيا والآخرة، وشهادة الدنيا بعدم الغسل إلا لنجاسة أصابته غير دمه كما في أبي السعود، وشهادة الآخرة بنيل الثواب الموعود للشهيد. أفاده في البحر."
سنن أبي داود (176/4):
عن أبي الدرداء يقول: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «يشفع الشهيد في سبعين من أهل بيته».
محمد مسعود الحسن صدیقی
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
27/محرم الحرام/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


