03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دھوکے باز رشتہ دار سے تعلق رکھنے کا حکم
81091جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرا ایک رشتہ دار دھوکے باز ہے، اُس نے اپنوں اور غیروں کو بہت لوٹا ہے، مجھے بھی 2015ء میں ایک عدد 120 گز کا پلاٹ ایک لاکھ میں فروخت کیا تھا، میں نے جب اُس پر تعمیرات شروع کرنی چاہی تو اُس نے بتایا کہ وہ پلاٹ کسی اور کا ہے، آپ کو دوسرا پلاٹ دوں گا، لیکن اب تک وہ ٹال مٹول کر رہا ہے، حالانکہ اُس کا تعلق دیندار گھرانے سے ہے، والد صاحب نے تبلیغ میں چلّہ لگایا ہے، ایک بھائی مفتی ہے۔ سب گھر والے نماز، روزوں کے پابند ہیں۔ کیا ایسے مسلمان سے، جبکہ وہ رشتہ دار بھی ہو، تعلق رکھنا درست ہے؟ نیز اُس کے دیندار والد اور مفتی بھائی کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ صورت میں فروخت کنندہ رشتہ دار کا اپنے اس طرزِ عمل سے باز آنا لازم ہے، حدیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے کہ کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو دھوکہ دے، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔  نیز ایسے شخص کے گھر والوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس شخص کو برے عمل سے روکیں اور جن لوگوں کے اس نے پیسے ضبط کیے ہوئے ہیں، ان کی ادائیگی کروائیں۔ لیکن اگر وہ اپنے عمل سے باز نہیں آتا تو اس کی تنبیہ کے لیے قطع تعلق کرلینا چاہیے، تاکہ اُس شخص کو اپنے عمل پر ندامت ہو اور وہ باز آجائے۔

حوالہ جات

في النساء (29):

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ}.

صحيح مسلم (99/1):

عن أبي هريرة أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم – قال: «من غشنا فليس منا».

محمد مسعود الحسن صدیقی

دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

27/محرم الحرام/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب