| 81007 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سائل کے والد محترم کا انتقال ہوگیا یکم مئی 2007 کو ہوا،انہوں نے اپنے ترکہ میں کئی زمینیں،مکان اور سامان اپنے آبائی علاقے میں چھوڑا،جبکہ ایک سو بیس گز کا ایک مکان کورنگی کراچی میں بھی تھا،ورثا میں ہم پانچ بہن بھائی تھے،یعنی تین بھائی اور دو بہنیں،کئی وجوہات ک سبب گزشتہ سولہ سال سے میراث تقسیم نہیں کی گئی۔
امسال ورثا کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں کراچی کے مکان کی تقسیم کی گئی ہے،ورثا میں سے ایک بہن کا گزشتہ سال انتقال ہوگیا اور بوقت وفات انہوں نے تین بیٹے،تین بیٹیاں اور ایک شوہر ورثا میں چھوڑے۔
مکان کی تقسیم یوں کی گئی کہ ساٹھ ساٹھ گز کے دو حصے کرکے دو بھائیوں نے رکھ لیا،اندازے سے اس گھر کی قیمت 80 لاکھ روپے مقرر کی گئی،ان دو بھائیوں کے ذمے 20 لاکھ روپے دیگر ورثا کو دینا طے ہوا،اس طور پر کہ ایک بھائی اپنے بھائی کو 20 لاکھ ادا کرے گا اور دوسرا بھائی اپنی دونوں بہنوں کو دس دس لاکھ روپے دے گا۔
یہ فیصلہ تمام ورثا اور مرحومہ بہن کے ورثا کی رضامندی سے ہوا،کیا مذکورہ طریقے سے وراثت کی تقسیم درست ہے؟
کیا اس کے علاوہ دیگر زمین اور جائیداد کی تقسیم بھی اس طریقے سے کی جاسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کئے گئے طریقے کے مطابق میراث کی تقسیم درست ہے اور اس کے علاوہ دیگر جائیداد کوبھی مذکورہ طریقے سے تقسیم کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
.......
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
27/محرم 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


