03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ میں سےکسی چیزکےخریدارکےذمے ہروارث کو اس کا حصہ حوالے کرنے کا حکم
81009میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیامرحومہ بہن کے حصے کی  تمام رقم کسی ایک شخص کے حوالے کی جاسکتی ہے؟ یا ہر وارث کو اس کے حصے کے بقدر ادا کرنا لازم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر مرحومہ بہن کے ورثا میں سے کوئی اس اعتماد کے قابل ہو کہ اگر ساری رقم اسے دی جائے تو وہ امانت و دیانت کے ساتھ ہر ایک کو اس کا حصہ حوالہ کردے گا تو پھر ساری رقم ایسے شخص کے حوالے کی جاسکتی ہے،لیکن اگر ان میں ایسا کوئی قابل اعتماد بندہ نہ ہو تو پھر ہروارث کا حصہ اس کے حوالے کرنا ہوگا۔

حوالہ جات

..........

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

27/محرم 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب