| 81112 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیا مدرسہ/اسکول کے اسٹوڈینٹ سے چھٹیوں کی فیس (تقریبا دو مہینے ) لے کر استاذ/ ٹیچر کو تنخواہ دینا جائز ہے؟ کیا یہ تنخواہ استاذ کے لیے حلال ہوگی؟ اسی طرح کیا اسٹوڈینٹ سے دو مہینوں کی چھٹیوں کی ٹرانسپورٹ فیس لینا اور ڈرائیوروں کو تنخوا دینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگراسکول کےقواعد و ضوابط کے مطابق چھٹیوں کی فیس وصول کرنا طے ہے تو ایسی صورت میں فیس وصول کرنا جائز ہےاور اس سے اساتذہ کی تنخواہ کی ادئیگی بھی جائز ہے۔ اگر کوئی قاعدہ یا معاہدہ نہیں ہے تو دیگر اسکولوں کے رواج کے مطابق فیصلہ کیا جائےگا۔
واضح رہے کہ اصولی طور پر وین ڈرائیور کی حیثیت شرعاً اجیر مشترک کی ہوتی ہے جو عمل سے اجرت کا مستحق بنتا ہے۔ جون جولائی میں چونکہ وہ کوئی عمل نہیں کرتا لہٰذا اصولاً وہ اجرت کا مستحق بھی نہیں ہونا چاہیے، مگرقابل غور بات یہ ہے کہ اسکولوں وغیرہ میں وین متعین ہوتی ہے، ڈرائیور وقت کا پابند ہوتا ہے، وہ اس وقت میں کوئی دوسرا کام نہیں کرسکتا، یعنی ایسا اجیر مشترک نہیں ہے کہ جو پہلے آئے لے جائے، بلکہ وہ پابند ہے کہ ان اوقات میں کسی اور کا کام نہ کرے، لہٰذا اگر ڈرائیور کے ساتھ معاہدہ میں یہ لکھا گیا ہو کہ اگر چھٹیوں میں بھی اس کو بلایا جائے تو وہ کام کرنے پر آمادہ ہو، یا معاہدے کے بغیر بھی اگر عرفاً ڈرائیور کو پابند سمجھا جاتا ہو اور بلاوے پر وہ کام کرنے پر آمادہ ہو تو اس صورت میں اس کے لیے چھٹیوں کی فیس لینا جائز ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 372)
وفي الفصل الثامن عشر من التتارخانية قال الفقيه أبو الليث ومن يأخذ الأجر من طلبة العلم في يوم لا درس فيه أرجو أن يكون جائزا وفي الحاوي إذا كان مشتغلا بالكتابة والتدريس.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 82)
(المادة 424) : الأجير المشترك لا يستحق الأجرة إلا بالعمل.
عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
03/صفر المظفر / 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


