| 81077 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
میرا پرسنل ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہے جس سے میں کاروبار کرتا ہوں، لوگوں کو بیلنس سینڈ کرتا اور جو مجھے سینڈ کرتے ہیں، میں نقد رقم نکال کردے دیتاہوں، بیلنس سینڈ کرتے وقت یا نکالتے وقت نیٹ ایم بی بھی استعمال ہوتاہے، ظاہر ہے کہ میرا ڈیوائس یعنی موبائل بھی استعمال ہوتاہے اور میرا وقت بھی اور کبھی کبھار کمپنی 15 یا 20 کاٹتاہے، رات کوبیلنس چیک کرو اور صبح جب چیک کرو 15 یا 20 روپے کم ہے، مارکیٹ میں ایزی پیسہ کاروبار کرنے والے ایک ہزار روپے سینڈکرنے یانکالنےپردس سے پندرہ روپے اجرت لیتے ہیں اور میں بھی لے رہاہوں، کیا اس صورت میں میرے لئے کاروبار جائز ہے ؟سود کے زُمرے میں تو نہیں آتا ؟میں بہت پریشان ہوں، مفتی صاحبان! اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ تعالی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ذاتی اکاؤنٹ کےذریعےرقوم یاموبائل بلینس کی ترسیل ومنتقلی پر اجرت مثل لینے کی اجازت ہےیعنی عام طور پرکمپنیاں اتنی رقم یابلینس کی سروس پرجواجرت لیتی ہے،اسی قدرلینےکی گنجائش ہے،بشرطیکہ اس میں کوئی دھوکہ اور غلط بیانی نہ ہو،یعنی رقم نکالنےوالےیابیلنس لینےوالےکومعلوم ہو کہ اکاؤنٹ ہولڈرموبائل کمپنی کانمائندہ نہیں،بلکہ یہ اس کاذاتی معاملہ اوریہ اضافی رقم اس کی اجرت ہےاورعام معروف اجرت سے زیادہ لینے سے احتراز لازم ہے۔
حوالہ جات
فقہ البیوع: (۲/۷۵۱) لشيخ الإسلام محمد تقي العثماني حفظہ اللہ، مكتبة معارف القرآن كراتشي:
أن دائرة البرید تتقاضی عمولة من المرسل علی إجراء هذہ العملیة فالمدفوع إلی البرید أکثر مما یدفعہ البرید إلی المرسل إلیہ فکان فی معنی الربا ولهذالسبب أفتی بعض الفقهاء فی الماضی القریب بعدم جواز إرسال النقود بهذالطریق ولکن أفتی کثیر من العلماء المعاصرین بجوازهاعلی أساس أن العمولة التی یتقاضاهاالبرید عمولة مقابل الأعمال الإداریةمن دفع الاستمارة وتسجیل المبالغ وإرسال الاستمارة أوالبرقیة وغیرهاإلی مکتب البرید فی ید المرسل إلیہ وعلی هذ الأساس جوّز الإمام أشرف علی التهانوی رحمہ اللہ-إرسال المبالغ عن طریق الحوالة البریدیة. وعلى هذا مشى العلماء المعاصرون، مثل فضيلة الدكتور الشيخ وهبة الذحيلي حفظه الله.
والعادة أن عمولة الإرسال تكون مرتبطة بنسبة مئوية من المبلغ. وقد يجعل مكتب البريد شرائح لهذه العمولة، فمثلا: هناك مبلغ مقطوع لإرسال مبلغ أقل من ألف، ومبلغ مقطوع أزيد منه لإرسال ما يبلغ ألفاإلى خمسة الآف، وهكذا، وقد جرى عليه العمل في سائر البلدان من غير نكير، وليس هناك ما يبرر هذا الربط بين المبلغ والعمولة إلا ما ذكره ابن عابدين رحمه الله تعالى في أجرة كتابة الصك حيث جاء في الدرالمختار:يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق والمحاضر والسجلات قدر مايجوز لغيره كالمفتي، فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى، لأن الواجب عليه الجواب باللسان دون الكتابة بالبنان، ومع هذاالكف أولى.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲صفر۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


