| 81098 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
پوسٹ مارٹم کن صورتوں میں جائز ہے؟کیا میڈیکل کالج میں طلباء کو سکھانے کے لئے جسم کی چیر پھاڑ کی جاسکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پوسٹ مارٹم کی دو قسمیں ہیں:
1۔:Medico legal post mortem وہ پوسٹ مارٹم جو موت کے اسباب اور کیفیات کے ادراک کے لئے کیا جاتا ہے۔
2۔ post mortem :Pathological وہ پوسٹ مارٹم جو میڈیکل کی تعلیم کے دوران امراض کے علاج، طبی معلومات اور تجربات کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے۔
“Pathological postmortem” یعنی صرف سائنسی تجربات کے لیے تومردہ کی چیر پھاڑ کی قطعاً اجازت نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے متبادل درج ذیل طریقے اختیارکئے جاسکتے ہیں:
1۔ موجودہ دور میں مصنوعی ڈھانچے اور مصنوعی اجسام (dummies) تیار کیے جاتے ہیں، تجربات کے لیے ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
2۔اس مقصد کے لئے ان جانوروں کا استعمال کیا جائے جن کے جسم کے بعض اجزاء انسانی اعضاء کے ساتھ مماثلت رکھتے ہو،جیسے مینڈک،بندر،بن مانس وغیرہ۔
3۔چیر پھاڑ (dissection) کے عنوان پر سابقہ تیار شدہ تصاویر، فلموں اور کمپیوٹر وغیرہ کو استعمال کرکے علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔
4۔مریضوں کے آپریشن کے موقع پران طلباء کو تجربہ کرایا جاسکتا ہے۔
اسی طرح “Medico legal post mortem” کی بھی بغیر کسی شدید مجبوری کے شرعا گنجائش نہیں،کیونکہ اس عمل میں انسانی لاشے کی توھین ہوتی،جبکہ اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا اور اسے معزز و مکرم بنایا،چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے :
{وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا} [الإسراء: 70]
ترجمہ:اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے اور انہیں خشکی اور سمندر دونوں میں سواریاں مہیا کی ہیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا ہے اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت عطا کی ہے۔
اسی وجہ سے انسان کی عزت و تکریم لازم ہے،ایسا کوئی بھی کام جس میں انسان کی اہانت ہو،جائز نہیں اور جس طرح زندہ انسان کی عزت و تکریم لازم ہے اسی طرح مردہ انسان کی عزت وتکریم بھی لازم ہے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:
"سنن أبي داود " (5/ 116):
"عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة، أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "كسر عظم الميت ككسره حيا".
ترجمہ: مرنے کے بعد مردہ کی ہڈیاں توڑنا اس کے زندہ ہونے کی حالت میں ہڈیاں توڑنے کی مانند ہے۔
تاہم اگر کسی مقدمہ میں جرم کی تفتیش کے لئے پوسٹ مارٹم ناگزیر ہوجائے تو حتی الامکان میت کے احترام اور ستر پوشی کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی گنجائش ہوگی۔
حوالہ جات
..........
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
02/صفر 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


