| 81140 | نماز کا بیان | قراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان |
سوال
مسجد کے امام نے فجر کی نماز میں سورۃ الزلزال کی تلاوت فرمائی اور تلاوت کے دوران انہوں نے جب پہلی آیت پڑھی تو (زلزالَھا) کے دوسرےزاء کو کسرہ کے ساتھ پڑھا، جبکہ دوسری زاء فتح کے ساتھ ہے۔ کیا اس طرح پڑھنے سے نماز ناقص ہوجاتی ہے؟
دوسرا یہ کہ امام صاحب نے رکوع میں جاتے ہوئے اللہ اکبر کی جگہ اللہ ابکر پڑھا تو کیا اس سے بھی نماز ناقص ہوجاتی ہے؟ وہاں پر موجود ایک عالم نے کہا کہ نماز ناقص ہوگئی ہے ، آپ نماز کا اعادہ کروگے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
الفاظ کے تلفظ کی مطلق کمی یا معنی کی مطلق تبدیلی سے نماز فاسد نہیں ہوتی، اگر قرآن کی تلاوت میں اس طرح کی غلطی ہوجائے کہ معنی میں تغیر فاحش ہوجائے، یعنی: ایسے معنی پیدا ہوجائیں، جن کا اعتقاد کفر ہوتا ہے اور غلط پڑھی گئی آیت یا جملے اور صحیح الفاظ کے درمیان وقفِ تام بھی نہ ہو (کہ مضمون کے انقطاع کی وجہ سے نماز کے فساد سے بچاجاسکے) اور نماز میں اس غلطی کی اصلاح بھی نہ کی جائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں دونوں غلطیوں سے معنی میں ایسا تغیر پیدا نہیں ہوتا جس کا اعتقاد کفر ہو لہٰذا نماز ہوجائے گی، واجب الاعادہ نہیں ہے۔
حوالہ جات
(إمداد المفتین، ص ۳۰۳)
"قال في شرح المنیة الکبیر:"القاعدة عند المتقدمین أن ما غیره تغیراً یکون اعتقاده کفراً تفسد في جمیع ذلک سواء کان في القرآن أو لم یکن إلا ما کان من تبدیل الجمل مفصولاً بوقف تام، ثم قال بعد ذلک: فالأولی الأخذ بقول المتقدمین".
(الفتاوی الخانیة علی هامش الهندیة، ۱: ۱۶۸)
"وإن غیر المعنی تغیراً فاحشاً فإن قرأ: ” وعصی آدم ربه فغوی “ بنصب میم ” اٰدم “ ورفع باء ” ربه “……… وما أشبه ذلک لو تعمد به یکفر، وإذا قرأ خطأً فسدت صلاته..." الخ
(الفتاوی الهندیة، ۱: ۸۲)
"ذکر في الفوائد: لو قرأ في الصلاة بخطإفاحش ثم رجع وقرأ صحیحاً ، قال: عندي صلاته جائزة".
(الفتاوی الهندیة، ۱: ۸۰)
"ومنها: ذکر کلمة مکان کلمة علی وجه البدل إن کانت الکلمة التي قرأها مکان کلمة یقرب معناها وهي في القرآن لاتفسد صلاته، نحو إن قرأ مکان العلیم الحکیم …، وإن کان في القرآن، ولکن لاتتقاربان في المعنی نحو إن قرأ: "وعداً علینا إنا کنا غافلین" مکان {فاعلین} ونحوه مما لو اعتقده یکفر تفسد عند عامة مشایخنا،وهو الصحیح من مذهب أبي یوسف رحمه الله تعالی، هکذا في الخلاصة".
عنایت اللہ عثمانی عفی اللہ عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
05/صفر الخیر / 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


