| 81146 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
مہینہ قبل اپنے بیوی بچوں ساتھ الگ گھر شفٹ ہوگیا ہوں۔ والدین ضعیف ہیں اور دو بھائیوں (بال بچے دار ) ساتھ آبائی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ مکان چھوٹا تھا جس وجہ سے مجھے الگ گھر میں شفٹ ہونا پڑا ۔ میں سب سے چھوٹا ہوں بہن بھائیوں میں۔ بے دلی سے والدین نے الگ گھر جانے کی اجازت عطاء کی تھی ۔ اب مہینہ گزر جانے پے والد کا رویہ تلخ اور انجان ہوگیا ہے۔ اور کہتے ہیں ہمیں ملنے نہ آیا کرو۔ اس وجہ سے میں سخت پریشن اور مایوس ہوں۔ انکا خیال ہے جگہ بہت تھی گھر میں مجھے نہیں جانا چاہیے تھا۔ میں کیسے اس صورت حال سے نبرد آزما ہوں۔ والد عمر کے آخری حصہ میں۔ ہے مسلسل پریشن رہتا ہوں والد کے رویہ سے۔ کیا میں نافرمانی کرہا ہوں؟ شرعی طور پر میں کہاں کھڑا ہوں؟ انکا رویہ ٹھیک ہوجاۓ کیا کروں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر ہونے کی حیثیت سے یہ بات لازم ہے کہ بیوی کے لیے ایک ایسی رہائش کا بندوبست کرے جس میں اس کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہوں اور ساتھ ہی اس جگہ پر دیگر لوگوں کا عمل دخل نہ ہو۔ اسی طرح بیٹا ہونے کی حیثیت سے یہ بات لازم ہے کہ اگر قدرت ہو تو والدین کے جائز مطالبات کو پورا کرے بشرطیہکہ اس سے دوسروں کے حقوق تلف نہ ہوتے ہوں۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو اپنے حالات کا خود جائزہ لینا چاہیے کہ اگر واقعتا آپ کا آبائی گھر اتنا چھوٹا ہے کہ اس میں رہنے میں آپ کو تنگی ہوتی ہے یا آپ کی ضروریات بھی صحیح طور پر پوری نہیں ہو پاتیں تو ایسی صورت میں آپ کا الگ گھر میں رہنا درست ہے اور والدین کی ناراضگی دور کرنے کے حوالے سے آپ یہ کوشش کریں کہ ان کی زیادہ سے زیادہ مالی اور جسمانی خدمت کریں،ان کی خبرگیری کرتے رہیں، ان کی ضروریات کو ان کے کہنے سے پہلے پورا کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی ان کے لیے خوب دعائیں کریں، ان شاء اللہ جلد ان کی ناراضگی دور ہو جائے گی۔
لیکن اگر آپ کے آبائی گھر میں اتنی گنجائش ہے کہ آپ اپنے گھر والوں سمیت بآسانی وہاں رہ سکتے ہیں اور وہاں آپ کی تمام ضروریات بھی صحیح طور پر پوری ہو سکتی ہیں تو آپ کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے والد کے اس حکم کی تعمیل کریں اور دوبارہ ساتھ رہائش اختیار کر لیں۔ عمر کے اس آخری حصہ میں ان سے زیادہ سے زیادہ دعائیں سمیٹنے کی کوشش کریں اور ان کی ناراضگی کا سبب بننے سے حتیٰ الامکان بچتے رہیں۔
حوالہ جات
القران الکریم
(الاسراء:23)
﴿وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَا أَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُل لَّھُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَإِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً﴾
الدر المختار: (600/3)
بيت منفرد من دار له غلق زاد في الاختيار والعيني ومرافق ومراده لزوم كنيف ومطبخ وينبغي الإفتاء به.
رد المحتار: (600/3)
قوله ( وفي البحر عن الخانية ) عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لهاأن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها ا ه
قال المصنف في شرحه فهم شيخنا أن قوله ثمة إشارة للدار لا البيت لكن في البزازية أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر
بدائع الصنائع: (23/4)
ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر اھ
ولی الحسنین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
6 صفرالخیر 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ولی الحسنین بن سمیع الحسنین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


