03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین کے لئےآرٹیفیشل جیولری کا استعمال
81118جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

آج کل آرٹیفیشل جیولری کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے،بعض فتاوی عدم جواز کے بارے میں ہیں جبکہ بعض عموم بلوی کی وجہ سے جواز کے قائل ہیں ،آپ سے درخواست ہیں کہ آرٹیفیشل جیولری کی حقیقت اور ساخت کے بارے میں بتلاکر موجودہ دور میں احناف کا قول ذکر کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خواتین کے لیے انگوٹھی کے سوا دوسرا زیور ہرقسم کی دھات کا بنا ہوا استعمال کرناجائز ہے،سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات(لوہا، تانبا، پیتل،ا سٹیل وغیرہ)کی انگوٹھی پہننے میں علماء کرام کا اختلاف ہے،عام فقہی کتب میں اس کی ممانعت درج ہےاس لئے خواتین کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے،البتہ اس بارے میں حضرت گنگوہیؒ نے علماء کے اختلاف کی وجہ سے مکروہ تنزیہی کا قول کیا ہے۔

تاہم اگرسونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات(لوہا، تانبا، پیتل،ا سٹیل وغیرہ)کی انگوٹھیوں پر سونے یا چاندی کا پانی اس طرح چڑھایاجائےکہ اس انگوٹھی کی دھات چھپ جائےتو پھرخواتین کے لئے بلا کراہت استعمال کرنا جائزہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية )5/ 335(

التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا، وأما العقيق ففي التختم به اختلاف المشايخ، وصحيح في الذخيرة أنه لا يجوز وقال قاضي خان الأصح أنه يجوز، كذا في السراج الوهاج.

إعلاء السنن (17/294)

یباح للنساء من حلي الذہب والفضۃ والجواہر کل ما جرت عادتہن یلبسہ کالسوار، والخلخال، والقرط، والخاتم، وما یلبسہ علی وجوہہن وفي أعناقہن وأرجلہن وأذانہن وغیرہ۔

الفتاوى الهندية (5/ 335)

ولا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوي عليه فضة أو ألبس بفضة حتى لا يرى كذا في المحيط۔

الموسوعۃ الفقہیۃ( 18/112)

اتفق العلماء علی جواز تحلی المرأۃ بأنواع الجواہر النفیسیۃ کالیاقوت والعقیق واللؤلؤ۔

محمدمصطفیٰ رضا

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

06/صفر/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مصطفیٰ رضا بن رضا خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب