03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کے بعد رخصتی سے پہلےازدواجی تعلق قائم کرنے کا حکم
81117نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

رخصتی سے پہلے میاں بیوی کا ازدواجی تعلق قائم کرنا شرعا کیسا ہے جبکہ دونوں میں صحیح نکاح منعقد ہوا ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ رخصتی سے پہلے ازدواجی تعلق قائم کرنا شرعاًناجائز نہیں ہے۔ لیکن اگر نکاح لوگوں کے درمیان مشہور نہ ہو تو چونکہ ایسی صورت میں تہمت کا اندیشہ ہے، اس لیے احتیاط کرنی چاہیے، شریعت میں تہمت کی جگہوں سے بھی بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ ہمارے معاشرے میں رخصتی سے پہلے ایسا کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور بعض اوقات اس کی وجہ سے فساد کا بھی اندیشہ ہوتا ہے لہٰذا اس معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 270)

وأما أحكامه فحل استمتاع كل منهما بالآخر على الوجه المأذون فيه شرعا كذا في فتح القدير وملك الحبس وهو صيرورتها ممنوعة عن الخروج والبروز.

حاشية ابن عابدين (4-3/3)

 قوله ( أي حل استمتاع الرجل ) أي المراد أنه عقد يفيد حكمه بحسب الوضع الشرعي

 وفي البدائع أن من أحكامه ملك المتعة وهو اختصاص الزوج بمنافع بضعها وسائر أعضائها استمتاعا.

عمر فاروق

دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۶/صفر الخیر/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عمرفاروق بن فرقان احمد آفاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب