| 81120 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
گزارش ہے کہ صفیہ گل بنت علی گل ، میری بیٹی ہے ، اس کو میں نے پرائمری سے لیکر بارہ کلاس تک تعلیم دلائی ہے ،شناختی کارڈاورتمام تعلیمی اسناد کےریکارڈ کے نقول میرے پاس موجود ہیں ، میں گلشن معمار کے متصل گبول گوٹھ کراچی میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیرتھا ،اصل باشندہ گھوٹکی سند ھ کا ہوں، میری بیٹی کو 19۔ 5 ۔ 2019 میں اغوا کرلیا گیا تھا ، پھر پولیس کاروئی کے بعد واپس آئی ،اس کے بعد دوسری مرتبہ 13 ۔6 ۔ 2019 کو اغوا کیا گیا ، میں نے تھانے میں اس کا ایف ،آئی ،آر درج کروایا ، لیکن تاحال لڑکی گھر واپس نہیں آئی ، رپوٹ کروانے کے بعد تھانے کی طرف سے مجھے ایک نکاح نامہ دیاگیا کہ تمہاری لڑکی کا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوگیا ہے ،وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہے ، میں لڑکی کا والد ہوں ، میرا نام علی گل ہے،جبکہ نکاح نامہ میں والد کے نام کی جگہ پیر بخش لکھا گیا ہے ، اور دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ نکاح نامہ کے مطابق یہ نکاح، اغوا ہونے کے پانچ ماہ بعد ہوا ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا اغوا کےبعد مذکورہ طریقہ پر یہ نکاح جائز ہوا ہے یاناجائز ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح ہوکہ شریعت اسلامی نے خواتین کو معاشرے میں ایک عزت کامقام دیا ہے ، بچپن سے ہی والد کی ذمے داری ہوتی ہے کہ اپنی لڑکی کی پرورش کرے ، صحیح نہج پر تعلیم وتربیت کرے ، لڑکی کو اپنے گھر میں رکھے اس کی عزت وناموس کی حفاظت کرے ، شادی کے قابل ہونے پر مناسب جگہ دیکھ کر رشتہ کروائے ، جس طرح اسلام میں عصمت فروشی حرام ہےایسا ہی لڑکی کو اغوا کرکے لیجانا بھی حرام ہے ، کیونکہ کسی اجنبی عورت کو بلاضرورت دیکھنا ، اس سے بات چیت کرنا ، اس کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا بھی زناکاری بدکاری کے حکم داخل ہے ،جس پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں.
لہذا مسئولہ صورت میں جو لڑکی کا اغوا ہوا ہے یہ ناجائز حرام عمل ہوا ہے ، تھانے کی ذمےداری تھی فوری کاروائی کرکے لڑکی کو بازیاب کروا کے والدین کے حوالے کرتے لیکن عملا ایسا نہیں ہواجو غلط ہوا ،اغوا کرکے لیجانے کے بعدتھانے کی طرف سے لڑکی کے والد کو صرف نکاح نامہ پیش کر دینا یہ بھی کافی نہیں ہے ، مزید یہ کہ پیش کردہ نکاح نامہ بذات خود مشکوک ہے ، اس لئےکہ اس میں لڑکی کے والد کانام غلط لکھا گیا ، لڑکی کے والد کا اصل نام علی گل ہے جبکہ اس نکاح نامے میں پیر بخش لکھا گیا ہے ، اور نکاح نامہ میں اغواء کے پانچ ماہ بعد کی تاریخ لکھی ہوئی ہے ، اس وقت تک لڑکی کہاں رہی ،اب کہاں رہ رہی ہے ، والدین کو اس کاعلم نہیں ،نیز یہ بھی واضح نہیں کہ لڑکی اس نکاح پر راضی تھی یانہیں ؟ ممکن ہے کہ لڑکی اس نکاح پر بالکل رضامند نہ ہو ،اس شخص نے ویسے ہی زبردستی بیوی بناکر رکھا ہو جوکہ شرعا اور قانونا جرم ہے ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ تھانہ اور عدالت کی ذمے داری ہے کہ لڑکی کو باز یاب کروائے اور والد سے ملاقات کروائے ، اس کے بعد نکاح کے معاملے کی چھان بین کی جائے ، اگر شرعی اعتبار سے نکاح صحیح ہواتو لڑکی کو شوہر کے حوالے کیاجائے ورنہ لڑکی کو اپنے والد کے حوالے کیا جائے ،اور اغوا کرنے والوں کو قانون کے دائرے میں سزا دی جائے ۔ورنہ اغوا کرنے والے ،تھانے دار سمیت تمام متعلقہ لوگ ہمیشہ گناہ میں مبتلا رہیں گے ۔
حوالہ جات
ارشاد باری تعالی ہے ۔
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا الإسراء: 32]
اور زناکاری کے قریب بھی نہ جانا بلا شبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے ،اور﴿ دوسرے مفاسد کے اعتبار سے بھی ﴾بری راہ ہے﴿ کیونکہ اس پر عداوتیں اور فتنے اور تضییع نسب مرتب ہوتے ہیں ﴾. بیان القرآن
عن أبو هريرة إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « لا يزنى الزانى حين يزنى وهو مؤمن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن » (صحيح مسلم للنيسابوري (1/ 54)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زانی زنا کی حالت میں مؤ من نہیں رہتا ، اور چور چوری کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا، اور شرابی شراب پیتے وقت مؤمن نہیں رہتا۔
مطلب یہ ہے کہ یہ ایسے عظیم گناہ ہیں کہ یہ گنا ہ سر زد ہوتے وقت بندہ نور ایمانی سے محروم ہو جاتا ہے ، اگر توبہ کرلے تو نور واپس آجاتا ہے، ورنہ اس کا دل بے نور ہی رہتا ہے ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی نے خبر دار فرمایا کہ زنا کے قریب بھی مت پھٹکنا۔
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
٦ صفر ١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


