03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جہاد کی نیت سے اسلحہ سازی کی تعلیم حاصل کرنا
81137جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اسلام و علیکم مفتی صاحب!

جناب مفتی صاحب میں مکینیکل انجینئرنگ کا سٹوڈنٹ ہوں اورمیں جہاد میں استعمال ہونے والےنئے اسلحہ  کی ڈیزائننگ اور اُن کے مینوفیکچرنگ  کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔مفتی صاحب مجھے یہ جاننا تھا کہ میری اس نیت سے تعلیم حاصل کرنا کہ میں اس تعلیم کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرح اسلام کی طاقت، اسلام کے دفاع،جہاد کی تیاری اور جہاد کے لیے استعمال کروں گا، جیسا کہ سورہ انفال کی آیات 60 میں اس کا حکم بھی آیا ہے۔تو مجھےجہاد کی تیاری پر،کیا تمام جہاد کی فضلیت میسر ہوگی؟ جیسا کہ قرآن و حدیث میں اللہ کے راستے کی فضلیت آئی ہیں۔

 مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ  کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جہاد کی تیاری بھی جہاد ہی میں داخل ہیں۔فضلیت سے میری مراد  اللہ  کے راستے میں خرچ کرنے کی فضلیت ، اللہ کے راستے میں مشکلات برداشت کرنے کی فضلیت اور بہت سی اور جہاد کی فضلیتیں۔

سورہ انفال کی آیت 60 کے  آخر میں بھی مال خرچ کرنے کی فضلیت آئی ہے، تو  کیا اس طرح مال خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ باقی تمام جہاد کی فضلیتیوں میں بھی شامل ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآن کریم کی سورہ انفال میں اللہ تعالی کا ارشادہے:

وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَہُمۡ ۚ اَللّٰہُ یَعۡلَمُہُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿60﴾

ترجمہ:اور ( مسلمانو ) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو  ،جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے ( موجودہ ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو ، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے ، ( مگر ) اللہ انہیں جانتا ہے ۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے ، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا ، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔

اس آیت کی تفسیر میں مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القرآن میں فرماتے ہیں:

"اس کے بعد اس سامان کی کچھ تفصیل اس طرح فرمائی "مِّنْ قُوَّةٍ "یعنی مقابلہ کی قوت جمع کرو اس میں تمام جنگی سامان اسلحہ، سواری وغیرہ بھی داخل ہیں اور اپنے بدن کی ورزش، فنون جنگ کا سیکھنا بھی، قرآن کریم نے اس جگہ اس زمانہ کے مروجہ ہتھیاروں کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ قوت کا عام لفظ اختیار فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ یہ قوت ہر زمانہ اور ہر ملک و مقام کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے اس زمانہ کے اسلحہ تیر، تلوار، نیزے تھے اس کے بعد بندوق توپ کا زمانہ آیا۔ پھر اب بموں اور راکٹوں کا وقت آگیا۔ لفظ قوت ان سب کو شامل ہے اس لئے آج کے مسلمانوں کو بقدر استطاعت ایٹمی قوت، ٹینک اور لڑاکا طیا رے، آب دوز کشتیاں جمع کرنا چاہئے کیونکہ یہ سب اسی قوت کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اور اس کے لئے جس علم و فن کو سیکھنے کی ضرورت پڑے وہ سب اگر اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں سے دفاع کا اور کفار کے مقابلہ کا کام لیا جائے گا تو وہ بھی جہاد کے حکم میں ہے۔

جہاد کے  جس شعبے میں شرکت ہوگی اس کا ثواب ملے گا،ممکن ہے کہ کوئی شعبہ ایسا ہو جس کی اہمیت زیادہ ہو،یا وہ شعبہ دوسرے کئی اہم شعبوں کے لیے اصل کی حیثیت رکھتا ہو،اس صورت میں ثواب زیادہ ملے گا،تاہم اس وقت ملکی دفاع سے متعلق ایک سے بڑھ کر مختلف شعبے ہوتے ہیں جن میں ہر ایک کی اپنی جگہ اہمیت مسلم ہوتی ہے،اس لیے فرد کی شمولیت جس حد تک ہوتی ہے،اس کاثواب مل جاتاہے،دوسرے متعلقہ شعبہ کے ثواب کے حصول کی امید رکھنی چاہیے۔

حوالہ جات

التفسیر المظہری: (106/4):

وأعدوا ايها المؤمنون لهم اى لنا قضى العهد او للكفار ما استطعتم إعدادها، والاعداد اتخاذ الشيء لوقت الحاجة، من قوة اى أسباب وآلات واعمال يقويكم على حربهم من الخيل والسلاح

والمصارعة ونحو ذلك واللهو بالرمي والبندقة وغير ذلك، ومنه جمع المال عدة للجهاد وقيل: هى الحصون ،عن عقبة بن عامر يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه واله وسلم وهو على المنبر يقول :واعدوا لهم ما استطعتم من قوة الا ان القوة الرمي الا ان القوة الرمي الا ان القوة الرمي، رواه مسلم ۔وعنه قال ستفتح عليكم الروم ويكفيكم الله فلا يعجز أحدكم ان يلهو باسهمه ۔رواه مسلم

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

05/محرم1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب