| 81197 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
آج سے تقریباً ساڑھے تین سال پہلے میری کزن اور میری بات چیت شروع ہوئی اور پھر محبت ہو گئی - تقریباً ایک سال پہلے میرے والدین میری کزن سے میری منگنی کرچکے ہیں، مگر شادی نہیں کر رہے، وہ کہہ رہے پہلے پڑھائی مکمل کریں تین سال، پھر شادی کریں گے- میں شادی نہ ہونے کی وجہ سے ڈپریشن اور اوور تھنکنگ میں ہوں اور دوائیاں بھی لے چکا ہوں - اسکی وجہ سے میری پڑھائی میں بھی کافی خلل آرہا - بار بار مجھ سے گناہ ہو رہے ہیں (مشت زنی، زنا وغیرہ) میں نے والدین کو راضی کرنے کے لئے سارے طریقے آزما لیے ،مگر وہ نہیں مان رہے۔
۱۔کیا میں گھر میں کچھ دن احتجاجاً کھانا نہ کھاؤں اور والدین سے تھوڑی بہت بات چیت رکھوں، تاکہ وہ کسی طرح میری شادی پرآمادہ ہو جائیں یا دوسرا حل یہ ہے کہ میں گھر چھوڑ کر کچھ عرصے کیلئے کہیں چلا جاؤں ،تاکہ کسی طرح وہ دباؤ میں آکر میری شادی کر دیں ،مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ان کو شادی کرانے پرآمادہ کرانے کیلئے میں کونسا شرعی طریقہ استعمال کر وں-میں جاب کرنے کے لیے بھی تیار ہوں، مگر وہ پھر بھی نہیں مان رہے ۔
۲۔یاد رہے منگنی کے بعد میں اور میری کزن نےچھپ کے نکاح کرلیا تھا ،مگر ابھی تک گھر میں کسی کومعلوم نہیں - مجھے اس صورتحال میں رہنمائی فرمائیں اور اور مشورہ عنایت فرمائیں اور دعا بھی کریں ۔ جزاک اللہ خیرا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔ اول تو گذشتہ گناہوں پر توبہ واستغفار کریں اور آئندہ کے لیے ان گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش اور ہمت کریں،دوسرے اس پریشانی کاصحیح حل یہ ہے کہ ایک طرف والدین کی ذہن سازی کریں ،انہیں نکاح کرنے کے روحانی اور مادی فوائد بتاتے رہیں اور بالخصوص یہ بتائیں کہ اس سے رزق میں وسعت اوربرکت بھی ہوتی ہے،حدیث میں آتا ہے کہ" التمسوا الرزق بالنكاح( مقاصد حسنہ: ص: 149) "یعنی نکاح کے ذریعہ رزق طلب کرو،نیزاس سے انسانی صحت عمدہ اور اچھی ہوتی ہے اور شادی نہ کرنے یا اس میں غیر ضروری تاخیر کے نقصانات میں صحت بالخصوص ذہنی استعداد کی خرابی یعنی ذہنی انتشار نہایت نمایاں ہے اور طالب علم کو ذہنی طور پر یکسوئی کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے،وغیرہ وغیرہ، اوردوسری طرف اس کے لیے ماحول بھی بنائیں یعنی گھر کے کام کاج میں والدین کا ہاتھ بٹائیں اوربالخصوص والد کی جسمانی خدمت کو خصوصی اہمیت دیں اوراس قدر خدمت کریں کہ ان کی خصوصی محبت اور توجہ حاصل کرنے میں آپ کامیاب ہوجائیں اوراور گھر اور خاندان کے ان افراد کو بھی اس مطالبہ میں شامل کریں جو اس بارے میں آپ کے والد پر اثر انداز ہوسکتے ہوں جب آپ کو یقین ہوجائے کہ ذہن سازی اور ماحول سازی تقریبا مکمل ہوچکی تو اس کے بعد والد سے نرمی سے مطالبہ شروع کریں اور مناسب وقفہ وقفہ سے مطالبہ دہراتے رہیں اور ساتھ ساتھ دعاء کا بھی معمول رکھیں، انشاءاللہ تعالی آپ کی جلدشادی اور رخصتی کا مطالبہ رنگ لے آئےگا،نیز والدین پر مطلوبہ دباؤ ڈالنے کے لیے وقتی طور پر گھر سے باہر جانے کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ اس سے دینی یا دنیوی طور پر کسی دوسرے گناہ میں ابتلاء یا ضرر کا اندیشہ نہ ہو۔
۲۔ اگرشرعی گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ہوا ہو تو نکاح شرعا ہوچکا،البتہ چھپ کراوربڑوں کی شرکت کےبغیر نکاح کرنا خلاف سنت اوراسلامی معاشرتی اقدارکےپیش نظرشرافت کے خلاف اورناپسندیدہ عمل ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۸صفر۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


