03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین، بیٹی اور شوہر کے درمیان وراثت کی تقسیم
81246میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے بیٹے کی شادی ہوئی، اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی عطا فرمائی، جو ابھی اٹھارہ ماہ کی ہے، میری بہو کو کینسر ہو گیا اور وہ قضائے الہی سے انتقال کر گئی، اب لڑکی کے والدین کہہ رہے ہیں، اس کا جہیز کا سامان ہمیں دے دو، سوال یہ ہے کہ کیا ان کا اس سامان میں کتنا حصہ ہے؟ جبکہ لڑکی کے ورثاء میں اس کے والدین، دادی، شوہر اور ایک بیٹی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لڑکی کے والدین کا یہ مطالبہ درست نہیں، کیونکہ شرعا یہ جہیز بھی مرحومہ کا ترکہ ہے  اور ترکہ کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ مرحومہ نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد، سونا، چاندی، نقدی، جہیز اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سےمرحومہ کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اوراگرکوئی وصیت کی ہو تو  کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس  میں سے والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا چھٹا حصہ، شوہر کو چوتھائی حصہ اور مرحومہ کی بیٹی کو نصف حصہ دے دیا جائے، لہذا پیچھے ذکر کیے گئے مرحومہ کے تین قسم کے حقوق ادا کرنے کےبعد بقیہ ترکہ کو تیرہ (13) حصوں میں برابر تقسيم كر كے مرحومہ کے والدین میں سے ہر ایک کودو دو (2) حصے، شوہر کو (3)  اور بیٹی کو  چھ(6) حصے  دے جائیں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:ان کے علاوہ بچی کی دادی کو کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ ماں یا باپ کی موجودگی میں دادی کو شرعاً حصہ نہیں ملتا۔

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

باپ

2

15.384%

2

ماں

2

15.384%

3

بیٹی

6

46.153%

4

شوہر

3

23.076%

 

حوالہ جات

     السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا،  ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

     السراجی فی المیراث:(ص:30)، مکتبۃ البشری:

أحوال الجدة : وللجدة السدس لأم كانت أو لأب، واحدة كانت أو أكثر، إذا كن ثابتات متحاذيات في الدرجة  ويسقطن كلهن  بالأم، والأبويات أيضا بالأب وكذلك بالجد إلا أم الأب وإن علت؛ فإنها ترث مع الجد لأنها ليست من قبله، من أي جهة كانت تحجب البعدي من أي جهة كانت وارثه كانت القربى أومحجوبة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

19/صفرالمظفر 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب