03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکےناجائزتعلقات ہوں توبیوی کیاکرے؟
81204جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم !معزز علمائے کرام اور مفتیان صاحبان

بہت ہمت اور سوچ بچار کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں،کیونکہ اب میری برداشت ختم ہو گئی ہے،برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں میرے مسئلے کا جواب دیا جائے۔

مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک شادی شدہ گھریلو عورت ہوں اور میری شادی کو 18 سال ہو گئے ہیں، بہت علاج کروایا اور بچے کسی وجہ سے نہیں ہوئے ، وجہ میں جانتی ہوں، لیکن کچھ کر نہیں سکتی۔کھانے پینے اورآنے جانے کی کوئی پابندی نہیں،ویسےمذہبی گھرانہ ہے، ہمارےہاں  نماز،روزہ اور پردہ وغیرہ سب  کااہتمام ہوتاہے،الحمدللہ ۔

ان 18 سالوں میں میں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے،ہر قسم کارویہ اور اپنے شوہر کی طرف سے ہر قسم کا دھوکہ۔اگر میں تفصیل لکھنے بیٹھوں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی۔

سوال یہ ہےکہ ان 18 سالوں میں میں نے اپنے شوہرکوبازاری عورتوں کےساتھ کئی بارزنا کرتےدیکھا ہےویڈیوز وغیرہ میں۔شادی کے شروع میں تو اس چیز کو میں نے سر پر سوار نہیں کیا، البتہ جتنا میں کر سکتی تھی کیا اور ہر بار ڈرکے مارے کچھ دن واویلا کر کے چپ ہو جاتی تھی،حالانکہ میں اپنے شوہر کا ہر طرح سے خیال رکھتی ہوں،اس کے گھر کا، اس کی ماں بہن بھائی سب  گھرمیں آتے جاتے ہیں۔ وقت پر سب میسر ہوتا ہے، اس سب کے باوجود بھی وہ اتنے بڑے گناہ میں مسلسل ملوث ہیں،میں نےبہت سمجھایااورڈرایا دھمکایابھی۔2,3 بار میکے بھی جا بیٹھی  ہوں،اپنے بڑوں سے بھی بات کی ہے، لیکن وہ سب کہتےہیں  کہ برداشت کرو ۔

سوال یہ ہےکہ اور کتنابرداشت  کروں؟ اب تو گھن آنے لگ گئی ہے ۔اب آپ بتائیں کہ میرے لیے کیاحکم ہے؟میں سب کچھ ایک دو بار نہیں، کئی بار دیکھ چکی ہوں۔ ایک عورت کے ساتھ نہیں7,6  عورتوں کے ساتھ عشق مٹکے کر چکا ہے، میں ایسے ہی برداشت کر کے چلتی رہوں یا اپنے لیے کوئی فیصلہ کروں؟

حق زوجیت کے لئے کیا کرنا چاہیئے؟انکار تو پہلےبھی نہیں کیا اورنہ اب کرتی ہوں اور وہ روز ہی یہ کام کرنے کا کہتے ہیں، دوسری شادی کا بھی کہہ چکی ہوں پر وہ بھی نہیں کرتے۔

برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں میری راہنمائی فرمائی جائے۔ جزاکم اللہ خیرا

وضاحت:بندہ نےسائلہ کےشوہرمحمدآصف سےبھی اس معاملہ کی تصدیق کی ہے،واقعہ اسی طرح ہے،شوہران باتوں کااقرارکرتاہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

موجودہ صورت کااصولی جواب یہ ہےکہ شوہرکےناجائزتعلقات حتی کہ زناوغیرمیں مبتلی ہونےکی وجہ سےمیاں بیوی کےنکاح پرشرعا کوئی فرق نہیں پڑتا،نکاح اسی طرح برقراررہتاہے،ایسی صورت میں شرعابیوی پراپنی استطاعت کےمطابق شوہرکوبرےکاموں(زناوغیرہ)سےروکنےکاحکم ہوگا۔

آپ  کےلیےحکم یہ ہےکہ آپ اپنے شوہر کو   اچھے انداز اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کریں اور ساتھ ساتھ اس کے لیے روزانہ دو رکعت صلاۃ الحاجۃ پڑھ کر اللہ سے دعا بھی کرتی رہیں کہ  اللہ تعالیٰ اس کی اس بُری عادت کو ختم کردے،اپنےشوہرکوروزےرکھنے کا بھی مشورہ دیں،اسی طرح اپنےشوہرکودسری شادی کرنےکامشورہ بھی دیں، نیز اللہ والوں کی صحبت میں رہنے سے ایسے موذی امراض سے جلد خلاصی نصیب ہوتی ہے،اگر آپ کے شوہر کو خود اس فعل کی قباحت کا احساس ہےتو اگروہ خود دو رکعت صلاۃ الحاجۃ پڑھ کر درج ذیل دعا پڑھنے کامعمول بنالےتوبھی ان شاء اللہ یہ عادت چھوٹ جائے گی:

'' اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْئَلُکَ الْهُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی''.

زناکےبارےمیں جوقرآن وحدیث میں جووعیدیں  آئی ہیں،وقتا فوقتاشوہرکوسنائی جائیں تاکہ وہ اس برےکام سےرک جائے۔ذیل میں زناکی وعیدسےمتعلق چندآیات اوراحادیث ذکرکی جارہی ہیں،تاکہ شوہران وعیدوں کوپڑھ کرزناوغیرہ سےرک سکے۔

اللہ تعالی فرماتےہیں: ولاتقربوالزنی انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا سورۃ بنی اسرائیل آیت 32

اورزناکےپاس بھی مت پھٹکو(یعنی اس کےمبادی اورمقدمات سےبھی بچو)بلاشہ وہ  خودبھی بڑی بےحیائی کی بات ہے۔

مذکورہ بالاآیت کی تفسیرمیں مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القرآن جلد 5صفحہ 475)میں فرماتےہیں:

یہ ساتواں حکم زناکی حرمت کےمتعلق ہے،جس کےحرام ہونےکی دووجہ بیان کی گئی ہیں:

اول یہ کہ وہ بےحیائی ہےاورانسان میں حیانہ رہےتو وہ انسانیت ہی سےمحروم ہوجاتاہے،پھراس کےلیےکسی بھلےبرےکام کاامتیازباقی نہیں رہتا،اسی معنی کےلیےحدیث میں ارشاد ہے،اذافاتک الحیاء فافعل ماشئت ،یعنی جب تیری حیاہی جاتی رہےتوکسی برائی سےرکاوٹ کاکوئی پردہ نہیں رہا،توجوچاہوکروگے،اوراسی لیےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحیاء کوایمان کاایک اہم شعبہ قراردیاہے،والحیاء شعبۃ من الایمان ۔

دوسری وجہ معاشرتی فسادہےجو زنا کی وجہ سےاتناپھیلتاہےکہ اس کی کوئی حدنہیں رہتی،اوراس کےنتائج بدبعض اوقات پورےقبیلوں اورقوموں کو برباد کردیتےہیں،فتنے،چوری،ڈاکہ اورقتل کی جتنی کثرت آج دنیامیں بڑھ گئی ہے،اس کےحالات کی تحقیق کی جائےتوآدھےسےزیادہ واقعات کاسبب کوئی عورت ومردنکلتےہیں،جواس جرم کےمرتکب ہوئے،اس جرم کاتعلق اگرچہ بلاواسطہ حقوق العباد سےنہیں ،مگراس جگہ حقوق العبادسےمتعلقہ احکام کےضمن میں اس کاذکرکرناشایداسی بناء پرہوکہ یہ جرم بہت سےایسےجرائم ساتھ لاتاہے،جس سےحقوق العباد متاثرہوتےہیں اورقتل وغارت گری کےہنگامےبرپاہوتےہیں،اسی لیےاسلام نےاس جرم کوتمام جرائم سےاشدقراردیاہے،اس کی سزابھی سارےجرائم کی سزاؤں سےزیادہ سخت رکھی ہے،کیونکہ یہ ایک جرم دوسرےسینکڑوں جرائم کواپنےاندرسموئےہوئےہے۔

"تفسير ابن كثير"5 / 72:

{ وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلا (32) } .

يقول تعالى ناهيًا عباده عن الزنا وعن مقاربته، وهو مخالطة أسبابه (6) ودواعيه { وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً } أي: ذنبًا عظيمًا { وَسَاءَ سَبِيلا } أي: وبئس طريقًا ومسلكًا۔

وقد قال الإمام أحمد: حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا جرير، حدثنا سليم بن عامر، عن أبي أمامة قال: إن فتى شابًا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، ائذن لي بالزنا. فأقبل القوم عليه فزجروه، وقالوا: مًهْ مَهْ. فقال: "ادنه". فدنا منه قريبًا  فقال  اجلس". فجلس، قال: "أتحبه لأمك؟" قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لأمهاتهم" . قال: "أفتحبه لابنتك"؟ قال: لا والله يا رسول الله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لبناتهم" ، قال: "أتحبه لأختك"؟ قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لأخواتهم"، قال: "أفتحبه لعمتك"؟ قال: لا والله جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لعماتهم" قال: "أفتحبه لخالتك"؟ قال: لا والله، جعلني الله فداك. قال: "ولا الناس يحبونه لخالاتهم" قال: فوضع يده عليه وقال: "اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه وحصن فرجه" قال: فلم يكن بعد ذلك الفتى يلتفت إلى شيء ۔

مذکورہ بالاحدیث کاترجمہ :ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دیں۔ قوم  اس کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا مہ مہ( یعنی لوگوں نےاس کو سوال کرنےسےمنع کیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا اسے اندر لے آؤ۔ تووہ لڑکاحضورصلی اللہ علیہ وسلم کےقریب ہوگیا،توحضور صلی اللہ وسلم نےفرمایا"بیٹھو" تو وہ بیٹھ گیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا "کیا تم اسے(زنا)کو اپنی ماں کے لیے پسند کرو گے؟" اس نے کہا: "نہیں، خدا کی قسم، اللہ مجھے آپ پرفداکرے،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ ہی لوگ اسے اپنی ماؤں کے لیے پسند کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیاتم اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے کہا:  نہیں، خدا کی قسم ،اللہ مجھے آپ پرفداکرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اورنہ ہی لوگ اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند کرتے ہیں"پھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:کیا تم اسے اپنی بہن کے لیے پسند کرو گے؟" اس نے کہا: "نہیں، خدا کی قسم، اللہ مجھے آپ پرفداکرے " حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا"اور نہ ہی لوگ اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند کرتے ہیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا"کیاتم  اسےاپنی خالہ کےلیے پسند کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، خدا کی قسم، اللہ مجھے آپ پرفداکرے توحضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا’’نہ ہی لوگ اسے اپنی خالاؤں  کےلیےپسندکرتےہیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا "کیا تم اپنی پھوپی  کے لیے یہ پسند کرو گے؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں، خدا کی قسم اللہ مجھے آپ پرفداکرے ، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا’’اور نہ ہی لوگ اسے اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند کرتے ہیں ‘‘اس کےبعدحضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاپناہاتھ ،اس پر رکھا اوریہ دعاء ارشادفرمائی " اللهم اغفر ذنبه وطهر قلبه وحصن فرجه (اےاللہ اس  لڑکے کےگناہ معاف فرمااوراس کےدل کو پاک کردےاوراس  کی عفت اورپاکدامنی کی حفاظت فرما)اس دعاء کااتنااثر ہواکہ اس کےبعد اس کاذہن اس طرح کی برائی کی طرف  کبھی نہیں گیا۔

اسی طرح سورۃ الفرقان میں اللہ تعالی فرماتےہیں،سورۃ الفرقان آیت  68،69

اوروہ لوگ جواللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اورکسی ایسے شخص کو جسے اللہ تعالی نے قتل کرنا حرام قرار دیا اسے وہ حق کے سوا قتل نہیں کرتے  اورنہ ہی وہ زنا کا ارتکاب کرتے ہیں اور جوکوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائےگا،اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب دیا جائے گا اوروہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی عذاب میں رہے گا(

وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آَخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا (68) يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا (69)

"تفسير ابن كثير" 6 / 125:

وقال النسائي: حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يَسَاف، عن سلمة بن قيس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع: "ألا إنما هي أربع -فما أنا بأشح عليهن مني منذ سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم -: لا تشركوا بالله شيئا، ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق، ولا تزنوا، ولا تسرقوا" (9) .

وقال الإمام أحمد: حدثنا علي بن المديني، رحمه الله، حدثنا محمد بن فضيل بن غَزْوان، حدثنا محمد بن سعد (10) الأنصاري، سمعت أبا طيبة الكَلاعي، سمعت المقداد بن الأسود، رضي الله عنه، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه: "ما تقولون في الزنى"؟ قالوا: حَرّمه الله ورسوله، فهو حَرَام إلى يوم القيامة۔۔

"تفسير ابن كثير" 6 / 126:

وقوله: { وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا } . روي عن عبد الله بن عمرو أنه قال: { أَثَامًا } واد في جهنم۔

وقال عكرمة:{یَلْقَ أَثَامًا}أودية في جهنم يعذب فيهاالزناةوكذارُوي عن سعيدبن جبير،ومجاهد

وقال قتادة: { يَلْقَ أَثَامًا } نكالا كنا نحدث أنه واد في جهنم۔

وقد ذكر لنا أن لقمان كان يقول: يا بني، إياك والزنى، فإن أوله مخافة، وآخره ندامة۔

۱۔حدیث میں ہےکہ شرک کرنے کے بعد اللہ کے نزدیک کوئی گناہ اس نطفہ سے بڑا نہیں جس کو آدمی اُس شرمگاہ میں رکھتا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔

"کنزالعمال" 314/5:

''ما ذنب بعد الشرك أعظم عند الله من نطفة وضعها رجل في رحم لا يحل له''. ابن أبي الدنيا عن الهيثم بن مالك الطائي''۔

۲۔ حدیث میں ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ ساتوں آسمان اورزمینیں شادی شدہ  زناکارپرلعنت کرتی ہیں اورجہنم میں ایسےلوگوں کی شرمگاہوں سےایسی سخت بدبوپھیلےگی کہ اہل جہنم بھی اس سےپریشان ہوں گےاورآگ کےعذاب کےساتھ ان کی رسوائی جہنم میں بھی ہوتی رہےگی،(رواہ البزارعن بریدہ۔مظہری)

"مسند البزار كاملا من 1-14 مفهرسا " 2 / 141:

4431- حدثنا محمد بن المثنى قال : نا يعلى بن عبيد عن صالح بن حيان عن عبد الله بن بريدة عن أبيه رضي الله عنه : إن السماوات السبع والأرضين السبع والجبال ليلعن الشيخ الزاني وإن فروج الزناۃ لتؤذي أهل النار بنتن ريحها

۳۔حدیث میں حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ زنا کرنےوالا زناکرنےکےوقت مومن نہیں رہتا،۔۔۔۔۔۔اس حدیث کی شرح ابوداودکی روایت میں یہ ہےکہ ان جرائم کےکرنےوالےجس وقت مبتلائےجرم ہوتےہیں،توایمان ان کےدل سےنکل کر باہرآجاتاہےاورپھرجب اس سےلوٹ جاتےہیں توایمان واپس آجاتاہے(مظہری)۔۔۔۔۔

"الجمع بين الصحيحين البخاري ومسلم" 3 / 40:

عن أبي هريرة أن رسول الله {صلى الله عليه وسلم} لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمنٌ ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن

"عون المعبود شرح سنن أبي داود"22 / 98:

وقال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن , ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن , ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن , قال قال : يخرج من الإسلام , فإذا تاب تاب الله عليه فرجع إلى الإيمان "وقال أحمد في رواية المروزي : حدثنا يحيى بن سعيد عن أشعت عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ينزع منه الإيمان , فإن تاب أعيد إليه " ۔

۴۔حدیث میں ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے سفرِ معراج میں کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے سامنے ہانڈی میں حلال اور صاف گوشت رکھا ہوا ہے، لیکن وہ اسے چھوڑ کر دوسری ہانڈی سے جس میں بدبودار اور خراب گوشت ہے، وہ کھارہے ہیں، آپ ﷺ کے استفسار پر بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بیوی کے ہوتے ہوئے حلال راستہ چھوڑ کر اجنبی عورت سے حرام طریقے سے شہوت پوری کرتے ہیں۔

"سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد " 3 / 86:

ثم مضى صلى الله عليه وسلم هنيهة، فإذا هو بأخونة عليها لحم مشرح ليس يقربه أحد، وإذا بأخونة عليها لحم قد أروح وأنتن، عنده ناس يأكلون منه فقال: يا جبريل من هؤلاء ؟ قال: هؤلاء من أمتك يتركون الحلال ويأتون الحرام۔

وفي لفظ: وإذا هو بأقوام على مائدة عليها لحم مشوي كأحسن ما روي من اللحم، وإذا حوله جيف، فجعلوا يقبلون على الجيف يأكلون منها ويدعون اللحم فقال، من هؤلاء يا جبريل ؟ قال: هؤلاء الزناة يحلون ما حرم الله عليهم ويتركون ما أحل الله لهم۔

۵۔حدیث میں ہےکہ  تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کےدن اللہ تعالی ان سےبات نہیں کریں گے(اوربعض روایات میں ہےکہ اللہ تعالی ان کی طرف نہیں دیکھیں گے)بوڑھازانی،جھوٹابادشاہ،ایسامفلس اورغریب جو تکبرکرتاہو۔

"صحيح مسلم للنيسابوري" 1 / 72:

عن أبى هريرة قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم - قال أبو معاوية ولا ينظر إليهم - ولهم عذاب أليم شيخ زان وملك كذاب وعائل مستكبر »۔

"جامع الأصول من أحاديث الرسول" 1 / 9476:

9361- (م س) أبو هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم- : «ثلاثة لا ينظر الله إِليهم يوم القيامة، ولا يزكيهم. ولهم عذاب أليم : شيخ زان ، ومَلِك كذاب. وعائل مستكبر ». أخرجه مسلم۔

وعند النسائي : « ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة : الشيخ الزاني ، والعائل المزْهُوُّ ، والإمام الكذاب ».

وفي رواية قال : « أربعة يبغضُهُمُ الله : البَيّاعُ الحلافُ ، والفقير المختال، والشيخ الزاني ، والإمام الجائر ».

۶۔اسی طرح بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہےکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کوخواب میں زناکاروں کوجوعذاب ہورہاتھاوہ دکھایاگیا کہ ایک جگہ تنور کی طرح ایک گڑھا ہے،جس کا منہ تنگ ہے اور اندر سے کشادہ ہے،برہنہ مرد و عورت اس میں موجود ہیں اور آگ بھی اس میں جل رہی ہے، جب آگ تنور کے کناروں کے قریب آجاتی ہے تو وہ لوگ اوپر اٹھ آتے ہیں اور باہر نکلنے کے قریب ہوجاتے ہیں اور جب آگ نیچے ہوجاتی ہے تو سب لوگ دوبارہ اندر ہوجاتے ہیں۔

"صحيح البخاري"6 / 2583:

6640 - حدثنا مؤمل بن هشام أبو هشام حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا عوف حدثنا أبو رجاء حدثنا سمرة بن جندب رضي الله عنه قال  : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم - يعني - مما يكثر أن يقول لأصحابه ( هل رأى أحد منكم من رؤيا ) . قال فيقص عليه من شاء الله أن يقص وإنه قال ذات غداة ( إنه أتاني الليلة آتيان وإنهما ابتعثاني وإنهما قالا لي انطلق ۔۔۔

قال قالا لي انطلق انطلق فانطلقنا فأتينا على مثل التنور - قال وأحسب أنه كان يقول - فإذا فيه لغط وأصوات قال فاطلعنا فيه فإذا فيه رجال ونساء عراة وإذا هم يأتيهم لهب من أسفل منهم فإذا أتاهم ذلك اللهب ضوضوا قال قلت لهما ما هؤلاء ؟ ۔۔۔۔۔۔وقال فی اخرالحدیث :وأما الرجال والنساء العراة الذين في مثل بناء التنور فإنهم الزناة والزواني

مذکورہ بالاآیات اوراحادیث سےواضح طورپرمعلوم ہوتاہےکہ زناایک ایسا سنگین اور کبیرہ گناہ ہے، جس کا ارتکاب کرنے والا اگر ندامت وشرمندگی کے ساتھ سچی پکی توبہ و استغفار نہ کرے تو وہ اس کا وبال دنیا میں بھی دیکھے گا، اور بروزِ حشر تو ایسے شخص کا انجام انتہائی دردناک ہوگا۔

مذکورہ بالاتفصیل کےبعدآپ کےسوال کاجواب یہ ہےکہ صورت مسئولہ میں اگرحددرجہ کوشش کےباوجود شوہرنہیں مانتاتوتووہ خودذمہ دارہوگااوراس کےگناہ کاوبال بھی اسی پر ہوگا،ہاں اگرآپ ایسےشوہرکےساتھ مزیدنہیں  رہناچاہتی ہوتوپھرشوہرسےطلاق یاخلع کامطالبہ کیاجائے،اگرشوہرطلاق دیدےیاخلع کامعاملہ کرلےتواس کےبعد علیحدگی اختیارکی جاسکتی ہےاورعدت کےبعدآپ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں۔

جہاں تک حقوق زوجیت کاسوال ہےتواس سےانکارکرناشرعادرست نہیں،حدیث میں ایسی عورت کےلیےوعیدہے:حدیث میں ہےکہ "جب کسی مرد نےاپنی بیوی کو جماع کی طرف بلایا اور اس نے انکار کیا اور شوہر نے رات غصے میں گزاری تو فرشتے صبح تک اس بیوی پر لعنت بھیجتے ہیں" ۔

ہاں اگراس کی وجہ سےشوہرکوتنبیہ ہواوراس کاامکا ن ہوکہ شوہرکوقریب نہ آنےدینےکی صورت میں شوہرناجائزتعلقات سےبازآجائےگاتواس  مقصدکےلیے حق زوجیت سےمنع کرنےکی گنجائش ہوگی۔

"صحيح البخاري " 4 / 116:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح۔

حوالہ جات

۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

17/صفر      1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب