03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعلیق طلاق کا حکم
81186طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

ایک آدمی جس کی بیوی اور اولاد ہیں۔ اس کا اپنے دادا کے ساتھ کسی معاملے میں جھگڑا ہوااور باتیں چلتی رہیں یہاں تک کہ آدمی نے کہا :

"اگر میں اس موٹرسائیکل پر بیٹھا یا دکان پر گیا تو میری بیوی کو طلاق  ہے"۔ دوکان اور موٹرسائیکل کو مختص کرکے بولا۔ اس صورت میں اگر شرط پائی گئی تو کیا طلاق واقع ہوگی؟ کونسی ہوگی اور بیوی کے لیے کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے۔  شرط نہ پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق موٹرسائیکل پر بیٹھنے یا دکان پر جانے کی صورت میں اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ اس صورت میں اس کوعدت میں اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا اور آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا اختیار حاصل رہے گا۔  اگر عدت میں رجوع نہ کیا تو بیوی بائنہ ہوجائیگی، نکاح ٹوٹ جائے گا اور  دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ نیا   نکاح کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 122)

إذا قال لها أنت طالق إن دخل فلان الدار أنه يقع الطلاق إذا وجد الشرط في أي وقت وجد ولا يتقيد بالمجلس؛ لأن ذلك تعليق الطلاق بالشرط، والتعليق لا يتقيد بالمجلس؛ لأن معناه إيقاع الطلاق في زمان ما بعد الشرط فيقف الوقوع على وقت وجود الشرط ففي أي وقت وجد يقع

الفتاوى الهندية (9/ 213)

الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة : إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال : إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته : إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية : إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 355)

 وأما شرائط جواز الرجعة فمنها قيام العدة ، فلا تصح الرجعة بعد انقضاء العدة ؛ لأن الرجعة استدامة الملك ، والملك يزول بعد انقضاء العدة ، فلا تتصور الاستدامة إذ الاستدامة للقائم لصيانته عن الزوال لا للمزيل كما في البيع بشرط الخيار للبائع إذا مضت مدة الخيار أنه لا يملك استيفاء الملك في المبيع بزوال ملكه بمضي المدة .

عنایت اللہ عثمانی

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

16/صفر الخیر / 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عنایت اللہ عثمانی بن زرغن شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب