| 81216 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
قرآن و حدیث کی روشنی میں میاں، بیوی کو آپس میں اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے کی اہمیت کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعتِ مطہرہ میں میاں، بیوی کے ایک دوسرے پر بہت سے حقوق ہیں، جن کی ادائیگی جانبین کے ذمہ میں ہے۔ میاں، بیوی میں سے اگر کوئی معمولی باتوں پر ناراض ہوتا ہے تو اسے چاہیے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو میاں، بیوی نظر انداز کرکے شرعی احکام کا اہتمام کریں۔ نیز آپس کے اتفاق کے لیے تقویٰ اور خوفِ خدا بنیاد ہے۔ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی فکر کی جائے، باہمی معاملات میں صبر و تحمل سے کام لیا جائے۔ قرآنِ کریم کی اس آیتِ مبارکہ ﴿وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً مَّا أَلَّفَتْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ کا ہر فرض نماز کے بعد 11 بار ورد کرکے صدقِ دل سے دعا کریں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے دلوں کو جوڑ دیں گے۔
شوہر کو اسلام میں بیان کردہ بیوی کے حقوق سے بھی آگاہ کیا جائے، قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ [النساء: 19]
ترجمہ: اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کرو، اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شئی کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔
حدیث مبارک میں ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً، وخياركم خياركم لنسائهم» . رواه الترمذي. (مشکاۃ المصابیح، 2/282، باب عشرۃ النساء، ط؛ قدیمی)۔
ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: مؤمنین میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو، اور تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔
ایک اور حدیث مبارک میں ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي››. (مشکاۃ المصابیح، 2/281، باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)۔
ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل (بیوی، بچوں، اقرباء اور خدمت گزاروں) کے حق میں بہترین ہو، اور مَیں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔
ایک اور حدیث مبارک میں ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يفرك مؤمن مؤمنةً إن كره منها خلقاً رضي منها آخر» . رواه مسلم. (مشکاۃ المصابیح، 2/280، باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)
ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی نظر میں اس عورت کی کوئی خصلت و عادت ناپسندیدہ ہوگی تو کوئی دوسری خصلت و عادت پسندیدہ بھی ہوگی۔
اسی طرح بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ معمولی باتوں کو باہمی اختلاف کا ذریعہ نہ بنائے، تحمل سے کام لے اور درگزر کی عادت بنائے، اسی سے گھر آباد ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اور دنیا میں بھی عزت بڑھتی ہے۔ جو عورت شوہر کی نافرمانی کرے، اس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں، اور جو عورت شوہر کی فرماں برداری اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
حدیث مبارک میں ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي. (مشکاۃ المصابیح، 2/281، باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)
ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر مَیں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے، تو مَیں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔
ایک اور حدیث مبارک میں ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي أبواب الجنة شاءت». رواه أبو نعيم في الحلية. (مشکاۃ المصابیح، 2/281، باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے (اپنی پاکی کے دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی، رمضان کے (ادا اور قضا) رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی اور اپنے خاوند کی فرماں برداری کی تو، (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہے کہ) وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنے سے بالاتر سمجھے، اس کی وفادار اور فرماں بردار رہے، اس کی خیرخواہی اور رضا جوئی میں کمی نہ کرے، اپنی دنیا اور آخرت کی بھلائی اس کی خوشی سے وابستہ سمجھے۔ اور شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت سمجھے، اس کی قدر اور اس سے محبت کرے، اگر اس سے غلطی ہوجائے تو چشم پوشی سے کام لے، صبر و تحمل اور دانش مندی سے اس کی اصلاح کی کوشش کرے، اپنی استطاعت کی حد تک اس کی ضروریات اچھی طرح پوری کرے، اس کی راحت رسانی اور دل جوئی کی کوشش کرے۔
حوالہ جات
عدنان اختر
دارالافتا ءجامعۃالرشید ،کراچی
17/صفر الخیر /1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عدنان اختر بن محمد پرویز اختر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


