| 81311 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خاندانی منصوبہ بندی |
سوال
orgasm..1ہے یا جنسی کلائمیکس بیوی کا حق ہے ، جیسا کہ میں نے پڑھا ہےہر جگہ صرف ہمبستری پر بحث کی گئی ہے۔ لیکن حیاتیاتی طور پر عورتیں صرف جماع(sexual intercourse )سے ہی مطمئن نہیں ہوتیں انہیں بیرونی محرک(external stimulation)کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ۲ ۔۔ تو کیا شوہر بیوی کو مکمل طور پر orgasm یا کلائمیکس کے ذریعے مطمئن کرنے کا پابند ہے ۔ اگر صرف اس کا orgasm ہو اور بیوی کوغیر مطمئن چھوڑ کر چلا جائے تو کیا وہ گناہ گار ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی قانونی ضابطہ کی رو سے بیوی کے ساتھ جماع کرلینا کافی ہے،لیکن دیانت کاتقاضا یہ ہے کہ اس کی جنسی تسکین کی حتی الوسع کوشش کرے ۔لہذا جماع سے پہلے اس سے بوس وکنار کرنا اور ایسے جائز امور اختیار کرنا جس سے اس کی تسکین مکمل ہو یہ مرد کے ذمہ دیانۃ لازم ہے، اس لیے کہ مرد کے ذمہ جب اس کے حق زوجیت کے طور پر جماع کرنا دیانۃ لازم ہے تو اس کے مقدمات اور لوزازمات بھی مرد کے ذمہ اسی درجہ میں لازم ہونگے، نیز طبی لحاظ سے بھی بیوی کا ہمبستری کے عمل میں بار بار مطمئن نہ ہونا اس کو نفسیاتی مریضہ بنادیتا ہے نیز ایسے شوہر سے بیوی کو نفرت بھی پیدا ہوجاتی ہے جس سے نوبت لڑائی جھگڑا اور طلاق تک بھی پہنچ جاتی ہے اور یہ سب امور شرعامذموم و ممنوع ہیں ،لہذا ان کے ذریعہ بننے والا عمل بھی شرعا ممنوع ہوگا،لہذا شوہر پر اس کوتاہی اور کمزوری کا ازالہ اس پہلو سے بھی شرعا لازم ہے،لہذا اگر جان بوجھ کر غفلت کرتا ہے اور بیوی کی مکمل تسکین کی کوشش نہیں کرتا جس سے بیوی اذیت کا شکار ہو تو یہ شخص شرعا گناہ گار ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 202)
(لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب. ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا ولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها، ويؤمر المتعبد بصحبتها أحيانا، وقدره الطحاوي بيوم وليلة من كل أربع لحرة وسبع لأمة. ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها،
(قوله لا في المجامعة) لأنها تبتنى على النشاط، ولا خلاف فيه. قال بعض أهل العلم: إن تركه لعدم الداعية والانتشار عذر، وإن تركه مع الداعية إليه لكن داعيته إلى الضرة أقوى فهو مما يدخل تحت قدرته فتح وكأنه مذهب الغير، ولذا لم يذكره في البحر والنهر تأمل (قوله بل يستحب) أي ما ذكر من المجامعة ح. أما المحبة فهي ميل القلب وهو لا يملك. قال في الفتح: والمستحب أن يسوي بينهن في جميع الاستمتاعات من الوطء والقبلة، وكذا بين الجواري وأمهات الأولاد ليحصنهن عن الاشتهاء للزنا والميل إلى الفاحشة، ولا يجب شيء لأنه تعالى قال {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم} [النساء: 3] فأفاد أن العدل بينهن ليس واجبا (قوله ويسقط حقها بمرة) قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة.
ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به. اهـ. قال في النهر: في هذا الكلام تصريح بأن الجماع بعد المرة حقه لا حقها اهـ. قلت: فيه نظر بل هو حقه وحقها أيضا، لما علمت من أنه واجب ديانة. قال في البحر: وحيث علم أن الوطء لا يدخل تحت القسم فهل هو واجب للزوجة وفي البدائع: لها أن تطالبه بالوطء لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم تجب عليه في الحكم. اهـ.
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۷صفر۱۴۴۴ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


