03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحومہ والدہ کے پلاٹ،رقم اورمنافع کی تقسیم کاحکم
81324وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

مرحومہ والدہ کے نام پر ایک عدد پلاٹ تیسر ٹاؤن کر اچی میں 240مربع گز  کاہے، پلاٹ کی مد میں کچھ شروع کی ایڈوانس رقم اور ایک دو اقساط کی ر قم مر حومہ والدہ  نے جمع کرائی تھی مگر اس کے بعد وہ فوت ہوگئی، فوتگی کے بعد سے ہمارے چھوٹے بھائی کاشف نے  اس پلاٹ کی مد میں کچھ اقساط اپنے پیسوں سے جمع کرائی تھی، جسکا ریکارڈ انکے پاس موجود ہے جو تاحال تقسیم نہیں ہوا ہے، چھوٹا بھائی کاشف اس پلاٹ کی شرعی تقسیم کے حق میں ہے۔

 اس کے علاوہ مرحومہ والدہ کے نام پر پندرہ لاکھ روپے سیونگ سرٹیفکیٹس کی مد میں تھے ہمارے بھائی مجاہد جمیل نے یہ رقم اپنے پاس رکھی ہوئی ہے، ہمیں علم نہیں کہ یہ رقم انہوں  نے کس کس کے نام پر جمع کی ہوئی ہے ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں فرمائیں کہ اس رقم کی تقسیم کی کیا صورت ہوگی  اور جب سے والدہ مرحومہ وفات پا چکی ہیں اس وقت سے تاحال اس کا نفع کس طرح لیا جائے گا؟ اس حوالے سے بھی رہنمائی فرمائی جائے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ کا مذکورہ پلاٹ ورثہ کےدرمیان تقسیم کیاجائےگااورمرحومہ کے انتقال کے بعدجتنی رقم قسطوں میں بھائی کاشف نے بھری ہے اگروہ واپس لینے کی نیت سے بھری تھی اور تبرع کی نیت سے نہیں تھی تومکان بیچ کر پہلے وہ رقم اسے دی جائے گی اورپھر باقی رقم ورثہ میں ان کے شرعی حصوں سے حساب سے تقسیم کی جائے گی ۔

مرحومہ والدہ کے نام پر پندرہ لاکھ روپے سیونگ سرٹیفیکٹس کی مدمیں جورقم بھائی مجاہدجمیل کے پاس ہے اس میں سے صرف اصل رقم ورثہ میں تقسیم کی جائے گی اورمنافع چونکہ حرام ہے، لہذا وہ بغیر نیت ثواب کے صدقہ کیاجائے گا۔

حوالہ جات

وفی رد المحتار (6 / 747):

 (قوله عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ

 (سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.

مجلة مجمع الفقه الإسلامي - (2 / 7722)

إن سندات القروض صكوك تمثل قروضا تحصل عليها الشركة من عامة الناس على أساس الفائدة الربوية المحددة ، وتكون هذه الصكوك في التعامل المعاصر قابلة للتداول ، وغير قابلة للتجزئة،،،،،،ولكن هذا الطريق مبني على أساس القرض الربوي الذي لا تبيحه الشريعة الإسلامية في حال من الأحوال ، وفيه من المفاسد الشرعية والاقتصادية ما ليس هذا محل لبسطها.

وفی  رد المحتار - (ج 19 / ص 372)

مات وكسبه حرام فالميراث حلال، ثم رمز وقال: لا نأخذ بهذه الرواية، وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه. اهـ. ح، ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله كما حققناه قبيل باب زكاة المال.

حکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

30/صفر1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب