| 81434 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک عورت کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس عورت کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ شوہر، والد اور بھائیوں کا اسکی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ اس عورت کی ایک بہن حیات ہے جو کہ اس کی حقیقی(عینی) بہن ہے۔ اس عورت کے والد کی دو نکاح تھے اور دونوں میں سے اولاد تھی، نیز اس عورت کے تین حقیقی بھتیجے تھی جن میں سے دو حیات ہیں اور تیسرے کی اولاد حیات ہے۔ جبکہ آٹھ علاتی (باپ کی طرف سے) بھتیجے تھے جن میں سے سات حیات ہیں۔ اس عورت کی وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس مرحومہ کے ترکہ سے پہلے اس کے تجہیز وتکفین وتدفین کے اخراجات منہا کئے جائیں گے، بشرطیکہ کسی وارث نے اپنی طرف سے ادا نہ کئے ہوں اس کے بعد پر واجب شرعی حقوق کو اداء کیا جائے گا، مثلا نمازوں اور روزہ کا فدیہ جبکہ اس نے اس کی ادائیگی کی وصیت کی ہو یا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا،اس کے بعد کوئی جائز وصیت کی ہو تو تو ایک تہائی ترکہ تک اس کو پورا کیا کیا جائے گا اس کے بعد جو مال بچے پہلے اس سے بہن کو نصف حصہ ملے گا ، اس کے بعد باقی مال اس کے تین حقیقی بھتیجوں میں برابر تقسیم ہوگا ،لہذا کل مال چھ برابر حصوں میں تقسیم ہوگا، اس میں سے تین حصے بہن کو اور ایک ایک حصہ ہر ایک حقیقی بھیجے کو ملے گا۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۳ ربیع الاول۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


